حق ایک جانب ہے۔ علم صرف سے لے کر منطق۔ معانی۔ بیان۔ اصول فقہ۔ اصول حدیث وغیرہ میں کوئی ایسا علم نہیں جس کے بعض مسائل میں اختلاف نہ ہو جو کتاب ان علوم کی کھول کر دیکھو گے اُس میں پاؤ گے۔ اخفش یوں کہتا ہے۔ سیبویہ وُ وں کہتا ہے ابن سینا کا یہ مذہب ہے فارابی کا قول اُس کے خلاف ہے امام رازی نے یوں کہا ہے ۔ ابن الصلاح یوں فرماتے ہیں لیکن ابن تیمیہ نے اس کا خلاف کیا ہے۔ توضیح تلویح میں فلاں اصل کو متاصل کہا ہے ۔ ارشاد الفحول میں اس اصل کو ردّ کر دیا ہے۔ کہاں تک میں اس اختلاف کی شرح کروں پھر اگر حضرت مجدد کا کوئی کلام اصول فقہ یا اصول حدیث کے ظاہر میں کسی کو خلاف معلوم ہوتا ہو تو باوجود اختلاف موجودہ ان علوم کے یہ کیونکر ثابت ہو کہ حضرت مجدد غلطی پر ہیں وہ تو اپنے ہر ایک مدعا پر کتاب اللہ کو جو جملہ دلائل شرعیہ سے مقدم ہے اور جملہ فِرق اسلام کو مسلم ہے پیش کرتے ہیں۔ اب اگر کسی کو طاقت علمی ہے تو ان کے اس مدعا کو قرآن مجید سے ہی توڑے۔خیر حدیث سے ہی توڑے۔ خیر عقل سے ہی توڑے۔ علمائے ہندوستان جو مدعو ہوئے ہیں دیکھیں ان میں کون کو ن اس میدان میں آتا ہے اور جبکہ کتاب اللہ کی نسبت ۱؂۔ وارد ہے تو کیا اس آیہ کو قرآن مجید میں اللہ تعالےٰ کا کلام نہ کہا جاوے اور اُس پر ایمان نہ لایا جاوے آگے رہا یہ امر کہ ایسا کھلا کھلا نشان بیّن حضرت مجدد کی مجددیت و ملہمیت و محدثیت پر ہم سب پر ظاہر ہو جاوے کہ کسی طرح کا حجاب کسی کو بھی نہ رہے تو یہ بات اللہ تعالےٰ کی حکمت کے جو اُس نے ایمان بالغیب میں رکھی مخالف ہے دیکھو حضرت موسیٰ ؑ سے نبی جلیل القدر صاحب الکتاب کو بڑے بڑے معجزات دیئے گئے لیکن مخالفین کی نظروں میں ایک حجاب بھی قائم کردیا گیا۔ ایک قبطی کو اُن کے ہاتھ سے قتل کروا دیا تاکہ مخالفین کی نظروں میں یہ فعل قتل اُن