وغیرہ وغیرہ مگر اس حدیث میں وہی اطراء منع ہے جو نصاریٰ کا سا ہو نہ وہ اطراء جو قرآن مجید اور سنت سے ثابت ہے اور جو اولیائے امت نے قرآن و حدیث سے آپ کی مدح میں اطراء کیا۔ وہ کہاں ممنوع ہے لفظ حدیث کے لا تطرونی کما اطرت النصاریٰ۔ ہیں نہ مطلق لا تطرونی۔ جناب من تقویت الایمان کو لآ الٰہ الا اللّٰہ کی شرح اور تفسیر سمجھئے اور منصب امامت یا صراط مستقیم یا توضیح المرام کے مضامین کو محمد الرسول اللہ کی تفسیر تصور کیجئے۔ ان میں وہ اطراء نہیں ہے جو یہود و نصارےٰ نے کیا ہے۔ والسلام خیرالختام۔ مورخہ دواز دہم ستمبر ۹۱ ء مطابق نہم صفر ۱۳۰۹ ھ
خاکسار
محمدؐ احسن مہتمم مصارف ریاست بھوپال