فان کان تجسیما ثبوت صفاتہٖ لدیکم فانی الیوم عبد مجسم ما ھو جوابکم من ھذہ الا کابر فھو الجواب من المجدّد اے میرے مخدوم ۔ ذرہ میرے حال پر عنایت فرما کر خط حال اور خط سابقہ کو غور سے پڑھو ورنہ پھر میں بھی یہ مصرعہ پڑھے دیتا ہوں ؂ یا رب مباد کس را مخدوم بے عنایت۔ اعتراضؔ دہم۔ کتاب منصب امامت پر چلنے کی کیوں ہدایت ہے آیت ۱؂۔ کیا منسوخ ہو گئی۔ آخر خط تک ۔ الجواب۔ گستاخی معاف تقویۃ الایمان پر چلنے کی کیوں ہدایت ہے کیا آیہ مذکورہ منسوخ ہو گئی جو تقویۃ الایمان وغیرہ پر چلنے کی ہدایت ہوتی ہے۔ ما ھو جوابکم فھو جوابنا۔ علاوہ یہ کہ تقویت الایمان کو منصب امامت وغیرہ پر کیا ترجیح ہے جو انہیں چھوڑ کر اُس پر چلیں بلکہ منصب امامت اور صراط مستقیم کو تقویت الایمان پر ضرور بالضرور ترجیح حاصل ہے کیونکہ یہ دونوں کتابیں آخری تصنیف ہیں اور قول آخر قول سابق کا ناسخ ہوا کرتا ہے اور پھر یہ عرض ہے کہ میں نے آپ کو منصب امامت پر چلنے کی کب ہدایت کی ہے خود آپ نے خط اول میں لکھا تھا کہ مولانا اسمٰعیل صاحب شہید و مجدّد نے ایسے مضامین کی جو توضیح المرام میں لکھے ہیں ۔ تقویت الایمان میں مذمت کی ہے میں نے آپ کے جواب میں الزاماً لکھا کہ خود حضرت مولانا اسمٰعیل صاحب نے ایسے مضامین کو منصب امامت صراط مستقیم میں صحیح فرمایا ہے۔ اب فرمائیے کہ مولانا اسمٰعیل مجدّد صاحب کی کتاب پر چلنے کا ذکر اولاً آپ نے کیا یامیں نے۔ اور پھر یہ عرض ہے کہ تقویت الایمان اور منصب امامت وغیرہ میں کوئی تناقض بھی نہیں ہے جو تقویت الایمان پر چلنے سے منصب امامت وغیرہ ہاتھ سے جاتی رہے یا منصب امامت وغیرہ پر چلنے سے تقویت الایمان فوت ہو جاوے۔ کیونکہ ان دونوں میں کسی طرح کا تناقض اور تضاد نہیں ہے میں دو جملہ عرض کرتا ہوں۔ سنئے۔ زید