قرب الٰہی بلا تشبیہ حاصل ہے جیسا کہ خادم خاص فرمانبردار کو اپنے مخدوم کے ساتھ یہ ادنیٰ درجہ قرب کا ہے جو فی نفسہٖ وہ بھی بہت بڑا ہے کہ اُس کی نسبت وارد ہے ۱؂ ۔ دوسرا مرتبہ قرب کا بلا تشبیہ ایسا ہے جیسا کہ خلف الرشید پسر کو اپنے والد ماجد سے جس کی طرف اشارہ ہے ۲؂۔ تیسرا مرتبہ قرب کا کہ سب سے بڑھ کر ہے اُس کی تمثیل بطور استعارہ کے ایسی ہے کہ کسی شخص کی تصویر جو آئینہ میں دکھائی دیتی ہو کہ اس میں تمام صفات ذی الصورت کے موجود ہوں گے۔ ان تینوں مراتب میں جو فرق ہے وہ اہل بصیرت پر پوشیدہ نہیں ہے اور یہی خلاصہ اور حاصل ہے حضرت مجدّد صاحب کی کلام کا جو توضیح المرام میں مذکور ہے۔ اعتراض ہشتم آپ کا یہ ہے کہ اتحاد سے مراد اگر اتحاد مجازی ہے تو کچھ موجب فضیلت نہیں اور اگر اتحاد حقیقی مراد ہے تو کفر ہے۔ الجواب۔ جواب اس کا گذر چکا کہ قول اتحاد حقیقی کا بلا شبہ کفر ہے اور اتحاد مجازی مجھ کو اور آپ کو دونوں کو مسلم ہے جس کے مدارج بطور کلی مشکک کے مختلف ہیں۔ سب سے اوپر کے مرتبہ پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام ہے کہ اس مقام تک کوئی نہیں پہنچ سکتا۔ اٰدم و من دونہٖ تحت لوائی۔ اعتراض نہم۔ اس محاورہ اور طرز استعمال میں کوئی خدشہ نہیں۔ الجواب۔ پھر مرزا صاحب پر آپ کیوں خدشہ کرتے ہیں جو خدشہ آپ کا مرزا صاحب پر ہے وہی بعینہٖ امام شافعی و ابن تیمیہ وغیرہ پر وارد ہوتا ہے۔ قال الشافعی: ان کان رفضًا حبّ اٰل محمد فلیشھد الثقلان انّی رافض و قال شیخ الاسلام ابن تیمیۃ: ان کان نصبًاحبّ صحب محمد فلیشھد الثقلان انی ناصب و قال ابن قیم: