باعتبار شجاعت کے مجازًا شیر ہے ۔ اور زید باعتبار حقیقت کے ہرگز شیر نہیں ہے۔ ان دونوں میں کیا تناقض ہے۔ رسائل منطق میں آپ نے دیکھا پڑھا ہو گا در تناقض ہشت وحدت شرط دان۔۔۔ وحدتِ موضوع و محمول و مکان۔ الیٰ آخرہ۔ جو ہدایات تقویت الایمان میں ہیں۔ وہ باعتبار حقیقت کے ہیں اور جو معارف و اسرار منصب امامت وغیرہ میں مذکور ہوئے ہیں۔ وہ دوسرے اعتبارات پر مسطور ہیں۔ لو لا الاعتبارات لبطلت الحکمۃ۔ جو صاحب منصب امامت وغیرہ کے مضامین کا انکار کرتے ہیں وہ عین حکمت کو باطل کر رہے ہیں اور پھر یہ گذارش ہے کہ یہ سب نزاع بھی جانے دیجئے آپ سے میں اور کچھ نہیں کہتا۔ آپ تقویت الایمان پر ہی عامل رہیئے لیکن حضرت مرزا صاحب کو مثل حضرت مولانا اسمٰعیل شہید و مجدّد کی اور اُن کی کتاب توضیح المرام کو مثل کتاب منصب امامت وغیرہ کے تصور کیجئے۔ جو حالت آخر میں حضرت مولانا اسمٰعیل صاحب شہید فی سبیل و مجدّد کو حاصل ہوئی وہی حالتؔ ابتدا سے اس مجدّد الوقت کی ہے۔ اور جیسے اسرار و معارف کتاب منصب امامت صراط مستقیم میں لکھے ہیں ویسے معارف توضیح المرام وغیرہ میں لکھے ہیں۔ پس این ہم فیصلہ شد۔ اے میرے پیارے دوست پورے پورے غیر مقلد نہ آپ ہیں اور نہ میں ہوں۔ کسی مسئلہ کی جب ہم اور آپ تحقیق کرنے بیٹھے تو بڑا کمال ہمارا یہ ہو گا کہ تقویت الایمان میں یوں لکھا ہے اور منصب امامت میں ووں لکھا ہے اور جلالین میں ایسا کچھ مندرج ہے اور کمالین میں ایسا کچھ اور اگر زیادہ تر اس سے تو غل علمی ہو گا تو مولوی محمد حسین کی طرح حوالے مسلّم الثبوت اور مطول حمد اللہ ملا حسن ارشاد الفحول دائرۃ الوصول کے ہونے لگیں گے۔ اب آپ فرمائیے یہ تقلید نہیں تو کیا ہے پورا پورا غیر مقلد تو وہی شخص ہو گا جو صاحب نفس قدسیہ اور مؤید من اللہ ہو اور مرتبہ مجدّدیّت پر اللہ تعالےٰ نے اُس کو مبعوث