جواب ہو چکا بطور کلی مشکک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اُس وصف میں ایسے درجہ کمال پر پہنچے ہوئے ہیں کہ کوئی دوسرا نبی و ملک اس میں شریک نہیں ہے این ہم فیصلہ شد۔ اعتراض چہارم آپ کا یہ ہے کہ غزوہ بدر و غزوہ حدیبیہ میں جو غلطی آپ سے ہوئی وہ آپ کے نزدیک جناب باری عزّ اسمہٗ سے ہوئی ہو گی۔ الجواب۔اے میرے پیارے دوستو بغضک الشیء یعمی و یصم۔ افسوس مرزا صاحب کے بغض بلا وجہ نے آپ کو کہاں سے کہاں تک پہنچا دیا ہے ؂ ہنر بچشم عداوت بزرگ تر عیب است۔ باوجودیکہ مرزا صاحب کے کلام میں جا بجا تصریحات موجودہیں کہ یہ وصف اتحاد بطور استعارہ و مجاز کے ہے نہ حقیقتاً بلکہ خود شعر میں لفظ (آنچنان) کا جو خاص مجاز کے واسطے آتا ہے موجود ہے اور یہ عبارت (کہ ذرہ امکان ہالکۃ الذات باطلۃ الحقیقت اس ذات اعلیٰ واجب الوجود سے کیونکر برابر ہو سکتا ہے) بھی توضیح المرام میں موجود ہے۔ آپ یہی سمجھتے ہیں کہ مرزا صاحب وحدۃ الوجود کے قائل ہیں کلا ثم کلا۔ اے میرے پیارے دوستو۔ یہ اعتراض تو اس شخص پر وارد ہو سکتا ہے جو قائل ہو اتحاد حقیقی کا نعوذ باللہ منہ ایں ہم فیصلہ شد۔ اور یہ اعتراض کہ آیت کُلُّ شَیْءٍ ھَالِکٌ اِلَّا وَجْہَہ‘ سے اتحاد ثابت نہیں ہوتا اور اگر ہو بھی تو کچھ مفید نہیں کہ اس میں کل شیء مشترک ہے۔ الجواب۔ بے شک معنے ظاہری آیہ سے اتحاد ثابت نہیں ہوتا اور جو ایک طرح کے اشارہ سے اولیاء و عرفاء اتحاد مجازی نکالتے ہیں وہ معنے بہت خفی ہیں۔ غیر پر حجت بینہ نہیں ہو سکتے۔ میں نے ضمن میں دیگر آیات کے اس آیہ کو بھی لکھ دیا تھا۔ لیکن وہ معنے خفی باطل بھی نہیں کیونکہ اتحاد مجازی کو تو آپ بھی تسلیم فرما ہی چکے ہیں کہ یہ وصف تو ادنیٰ خادمین