آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی حاصل ہے اور یہ ثابت ہو چکا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بطور کلی مشکک کے اعلیٰ درجہ کا یہ وصف حاصل ہے اندریں صورت آیہ مذکورہ ایک خفی اشارہ اس اتحاد مجازی پر بھی کرتی ہے۔ آفتاب اور ستاروں کا وجود دو۲ وجود ہیں لیکن روز روشن میں سوائے وجود آفتاب کے دوسرا وجود ستاروں کا موجود ہی نہیں ۔شیخ بوستان لکھتا ہے ؂ رہِ عقل جز پیچ در پیچ نیست بر عارفان جز خدا ہیچ نیست توان گفتن این با حقایق شناس ولے خوردہ گیر ند اہلِ قیاس الیٰ قولہ۔ ولے اہل صورت کجا پے برند کہ ارباب معنے بہ ملکے درند کہ گر آفتاب ست یک ذرّہ نیست و گر ہفت دریاست یک قطرہ نیست چو سلطانِ عزت علم بر کشد جہان جہانؔ سربجیب عدم در کشد الے قولہ۔ مگر دیدہ باشی کہ در باغ و راغ بتابد بشب کرمکے چوں چراغ یکے گفتش اے کرمک شب فروز چہ بودت کہ بیرون نیائی بروز ببین کاتشین کرمکِ خاک زاد جواب از سرِ روشنائی چہ داد کہ من روزو شب جز بصحرا نیم ولے پیش خورشید پیدانیم اگر آپ کہیں کہ اقوال شیخ بوستان سے مسائل مہمہ میں یہ کیسا استناد ہے تو جواب یہ ہے کہ اس اتحاد مجازی کے ثبوت میں مولوی محمد حسین صاحب نے ایک بہت عمدہ نقل لکھی ہے۔ شیخ محیی الدین ابن عربی کی کتاب سے غایۃ الوصلۃ ان یکون الشیء عین ما ظھر و لا یعرف کما رأیت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم و قد عانق ابن حزم المحدث فغاب احدھما فی الاٰخر فلم نر الا واحدا و ھو رسول اللّٰہ صلّی اللّٰہ علیہ وسلم فھٰذہٖ غایۃ الوصلۃ وھو المعبر عنہ بالاتّحاد۔ و لنعم ما قیل۔ جذبۂ شوق بحدیست میانِ من و تو کہ رقیب آمد و نہ شناخت نشانِ من و تو