مذہب رکھئے۔ کیونکہ مدعا ہمارا یعنے اتحاد مجازی تو آپ تسلیم ہی فرما چکے ہیں۔ ثبوت مدعا اس آیت پر موقوف نہیں لیکن جس صاحب کے نزدیک اس آیہ کی تفسیر و ترجمہ اس طرح پر ہو (کہ نزدیک ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ سے پھر نیچے کی طرف اُترے یعنی مخلوق کی طرف واسطے تبلیغ احکام کے بلکہ اس سے زیادہ نزدیک تر ہوئے) حاصل یہ کہ ضمیر دَنٰی فَتَدَلّٰی وغیرہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف راجع ہو جیسا کہ اکثر مفسرین نے لکھا ہے ۔ تو اس صورت میں جس اتحاد مجازی کے واسطے اس آیہ کو میں نے سابق میں لکھا تھا بخوبی مفید ہو گی اگر مفصلاً و مشرحاً آپ کو یہ تفسیر مطلوب ہو گی تو انشاء اللہ تعالیٰ عرض کی جاوے گی اور واضح خاطر ہو جیسا کہ در صورت اختلاف احادیث کے جمع مقدم ہوتی ہے ترجیح پر تاکہ اہمال احادیث کا لازم نہ آوے۔ اسی طرح پر جب کسی آیت کی وجوہ صحیحہ تفسیر مختلف ہوں تو مھما امکن سب وجوہ کو اخذ کرنا چاہئے تاکہ سب پر اعمال ہو جاوے اور اہمال لازم نہ آوے۔ اس ہیچمدان کے نزدیک تفسیر اس آیہ کی جو حضرت مجدّد پر مکشوف ہوئی ہے وہ کسی مجدّد سابق پر مکشوف نہیں ہوئی کم ترک الاول للاٰخر اس میں کوئی استبعاد نہیں ہے۔ قال اللّٰہ تعالٰی ۱ ۔جبکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ہر ایک شے کے خزائن کثیرہ موجودہیں تو کیا معارف قرآنیہ و اسرار فرقانیہ شے میں داخل نہیں ہیں وہ تو اپنے اپنے وقت میں مجدد امت پر نازل ہوتے رہتے ہیں اور اسی واسطے اُس کو مجدّد کہا گیا ہے کہ وہ فہم جدید کتاب و سنت کا لاتا ہے کوئی شریعت جدید نہیں لاتا اگر فہم جدید بھی نہ لاتا ہو تو ۔۔۔ اُس کو مجدّد کیوں کہا گیا آیت مَارَمَیْتَ وغیرہ کی نسبت جو آپ نے لکھا ہے کہ ایسا وصف اوروں کے واسطے بھی آیا ہے اس میں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کیا فضیلت بخصوصیت حاصل ہوئی۔۔۔اسؔ کا