کیا مومن فاسق حضرت نبی علیہ السلام کے برابر ہو گیا؟ اس کو بھی رہنے دیجئے لفظ وجود ایک ایسی کلی ہے جس میں تمام سلسلہ ممکنات ادنیٰ اعلیٰ سے لے کر تاواجب الوجود سب شریک ہیں تو کیا وجود ممکن وجود واجب تعالیٰ کے برابر ہے پہلی تقریر میں ہم اور آپ دونوں اس کو باطل کہہ چکے ہیں۔ ایسی مثالیں سینکڑوں میں آپ کے رو برو پیش کر سکتا ہوں آپ ان کا کیا جواب دیویں گے ما ھو جوابکم فھو الجواب من حضرت المجدّد۔ اے میرے پیارے دوستو آپ نے اگر ابتدائی رسائل منطق کے بھی دیکھے ہوں گے تو اُن میں جواب اس کا بآسانی آپ کو ملے گا کلیات کی دو قسمیں ہیں ایک کلی متواطی جس کے افراد سب مساوی ہوں۔ دوسری کلی مشکک جس کے افراد مختلف ہوتے ہیں۔ پس مرزاصاحب یہی فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس وصف اتحادی مجازی میں جو آپ کو بھی مسلّم ہے ایسے مقام اعلیٰ اور برتر پر پہنچے ہوئے ہیں کہ نہ مسیح اس مرتبہ تک پہنچ سکتے ہیں اور نہ کوئی اور ملک یا نبی ؂ اگرؔ یک سرِ موئے برتر پرم فروغِ تجلے بسوزد پرم اور حضرت مجدد نے اسی مرتبہ کا نام مقام جمع اور مقام وحدت تامہ رکھا ہے جس کے سبب سے وہ آیات حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں وارد ہوئیں جو میں نے خط سابق میں آپ کو لکھی تھیں اگرچہ ظلّی اور طفیلی طور پر آپ کے خادمین کے حق میں بھی وارد ہوئی ہوں۔ اب سچ سچ فرماؤ کہ لَا تَقْرَبُوا الصَّلٰوۃ پرآپ کا عمل تھا یا اس ناچیز کا۔ اعتراض سوم۔ آپ کا یہ ہے کہ آیت دَنٰی فَتَدَلّٰی آپ کے مطلب کو مفید نہیں۔ الجواب۔ اس آیہ کی تفسیر میں مفسرین نے بہت سے وجوہ لکھے ہیں اور ہر ایک مفسر نے اپنی اپنی وجہ کو دلائل سے مبرہن اور موجہ کیا ہے آپ کے نزدیک جو وجہ مختار ہو اُسی کو اپنا