کا اتحاد اللہ تعالیٰ کے ساتھ اتحاد حقیقی ہے جو باجماع مسلمین باطل ہے اور اگر اتحاد مجازی مراد لی جاوے تو اُس میں کوئی فضیلتؔ حضرت نبی علیہ السلام کو حاصل نہیں ہوتی مرزاصاحب ہی حضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے افضل ہوئے جاتے ہیں کہ ابن اللہ ہیں۔ الجواب۔بے شک اتحاد حقیقی باطل ہے باطل ہے اور پھر باطل ہے اٰمنّا ببطلانہٖ یہی ہمارا آپ کا عقیدہ ہے اور مرزا صاحب کا بھی یہی عقیدہ ہے۔اتنا فرق عبارتی ہے کہ آپ نے فرمایا اتحاد الممکن مع الواجب باطل۔ اور مرزا صاحب اس سے بڑھ کر فرماتے ہیں۔ اتحاد ذرۃ الامکان ھالکۃ الذات باطلۃ الحقیقۃ مع الذات الاعلی الواجب وجودہ باطل۔ اور وصف اتحاد مجازی کا آپ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے خادمین کو بھی تسلیم فرما چکے ہیں تو حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بطریق اولیٰ حاصل ہو گا۔ اُس میں ہمارا آپ کا کوئی نزاع نہیں ہے صرف شُبہ یہ رہا کہ جو وصف مشترک ہے اُس میں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ خصوصیت اور فضیلت حاصل نہیں ہوتی۔ اے میرے پیارے دوستو اسی قدر آپ کی غلط فہمی ہے۔ اگر یہ غلطی رفع ہو جاوے تو فیصلہ شد۔ اب اس کا رفع لیجئے میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ وصف منعم علیہم ہونے کا حضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر مومنین صالحین تک مشترک ہے قال اللّٰہ تعالٰی ۱؂ وقال تعالٰی فی تفسیرہٖ۔ ۲؂ ۔ تو کیااس وصف میں آپ جو میرے نزدیک صالحین میں داخل ہیں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے برابر ہیں ما ھو جوابکم فھو جوابنا۔ اس کو بھی رہنے دیجئے وصف مومن ہونے کا ایک ایسا وصف ہے جس میں مومن فاسق سے لے کر تا حضرت خاتم النبیین سب میں پایا جاتا ہے۔ اور سب کو مومن کہتے ہیں تو