کیوں شرک ہوتی یہ تو کمال مقتضائے ایمان ہے پھر اگر اس درجہ کمال ایمان پر مرزا صاحب پہنچے ہوئے ہوں تو اس میں کون سا امر خلاف کتاب و سنت کے ہے مولانا شاہ ولی اللہ صاحب نے تفسیر فوز الکبیر میں لکھا ہے کہ اگر ہم تسلیم کر لیں کہ اناجیل میں لفظ ابن اللہ آیا ہے تو واضح ہو کہ معنے لفظ ابن کے زمان قدیم میں محبوب اور پیارے کے آئے ہیں اور یہی معنے محاورات انجیل سے معلوم ہوتے ہیں انتہیٰ حاصلہ۔ اسی طرح پر حضرت مرزا صاحب کو مراتب ثلاثہ قرب الٰہی کے مکشوف ہوئے ہیں جن میں سے ایک یہ مرتبہ ہے کہ بطور استعارہ و تمثیل کے اُس مرتبہ کو علاقہ ابنیت سے تعبیرکر سکتے ہیں اس کے یہ معنے نہیں کہ مخلوق میں سے کسی کومرتبہ ابنیت کا حقیقتاً حاصل ہو۔ نعوذ باللہ منہ۔ اگر آپ کہیں کہ ہم کو کتاب و سنت سے اس مرتبہ کا پتہ اور نشان بتلاؤ تب ہماری پوری تسکین ہو گی واذ لا فلا ۔ لیجئے فرمایا اللہ تعالیٰ نے۔ ۱؂ جب تک کہ یہ حالت جو اوپر مذکور ہوئی تقاضائے ایمان کامل سے حاصل نہ ہو تو کیونکر ایسا ذکر الٰہی آدمی کر سکتا ہے جیسا آیت میں مذکور و مامور ہے اور جیسا کہ آیت میں کاف حرف تشبیہ کا موجود ہے۔ حضرت مرزا صاحب نے بھی جا بجا لفظ استعارہ وغیرہ الفاظ مجاز کا استعمال کیا ہے جو ویسا ہی آیت میں بھی مذکور ہے پھر اُسی آیت کی تفسیر حضرت مرزا صاحب نے کی ہے اور پھر طبرانی کی حدیث میں حرف تشبیہ تک نہیں ہے۔ الخلق کلھم عیال اللّٰہ و احبھم الیہ انفعھم لعیالہ اے میرے دوست اولیاء اللہ کا کوئی کلام جس پر اُن کو اصرار ہو ایسا نہیں ہوتا جو کتاب و سنت سے مستنبط نہ ہو لیکن اس کو ہر ایک شخص نہیں سمجھ سکتا اور مخالف رہتا ہے الناس اعداء لما جھلوا۔ البتہ استنباط والے لوگ ہی اس کو سمجھ لیتے ہیں۔ قال اللّٰہ تعالٰی ۲؂۔ اعتراض دوم۔ آپ کا یہ ہے کہ مرزا صاحب کی تقریر سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم