مثیل وہ سب ایک ذرہ امکان ہیں جس کا ہونا نہ ہونا برابر ہے بقول شاعر
آنکس کہ اولش عدم و آخرش فنا است228 درحق او گمان ثبات و بقا خطا است
اسی واسطے اس ذرہ ا مکان کو فرمایا کہ وہ تو اپنی ذات میں بالکل ہالک اور فانی ہے کُلُّ شَیْءٍ ھَالِکٌ اِلَّا وَجْہَہ‘۔ پھر آگے فرمایا کہ اس کی حقیقت ہی محض باطل ہے۔ الا کل شی ما خلا اللّٰہ باطل جبکہ اس ذرہ کی یہ حقیقت ٹھہری کہ وہ اپنی حقیقت میں ہی باطل ہے تو ایسی ذات کے ساتھ جو سب سے اعلےٰ ہے اور واجب الوجود ہے کیونکر کسی بات یا صفات میں شریک و برابر ہو سکتا ہے اب آپ کو مرزا صاحب کا عقیدہ تو اُسی رسالہ توضیح المرام سے معلوم ہو گیا اور یہی عقیدہ ہمارا اور آپ کا ہے۔ اب اس قدر گذارش اور ہے کہ جو نسبتیں اور حالتیں عارفین اولیاء اللہ پر وارد ہوتی ہیں اُن کو ہم پورے پورے طور پر نہیں سمجھ سکتے۔ کہ ولی را ولی می شناسد۔ مثل مشہور ہے مگر بطور نمونہ ایک حالت جو مجھ پر اور آپ پر اور سب پر طاری ہوئی ہے یا ہوتی ہے میں اس کو یاد دلاتا ہوں۔ جب آپ حالت طفولیت میں زیر تربیت اپنے والدین کے تھے تب اپنے والدین پر آپ کو سب طرح سے اطمینان تھا۔ نہ آپ کو کھانے کی فکر تھی۔ نہ آپ کو لباس کی فکر تھی۔ نہ آپ کو کسی دشمن کی فکر تھی اور جملہ امور میں رجوع آپ کی اپنے والدین ہی کی طرف رہتی تھی حتیّٰ کہ اگر والدہ نے کبھی آپ کو مارا بھی ہو گا تو بھی آپ نے والدہ ہی کی طرف رجوع کیا ہو گا۔ مثل مشہور ہے کہ ماں مارے لڑکا ماں ہی ماں پکارے یہ حالت تو آپ کی ہوئی۔ ابؔ اپنے والدین کی حالت کو دیکھئے۔ ان کی شفقت اور محبت کا کچھ ذکر ہی نہیں دنیا بھر کی خوبی و ہ آپ ہی کے واسطے چاہتے ہیں اور آپ کے دشمن کو اگر ان کا قابو چلتا تو نیست و نابود ہی کر ڈالتے اب میں آپ سے دریافت کرتا ہوں کہ اگر کسی مومن کی حالت توکل اپنے رب معبود کے ساتھ بلا تشبیہ مجازًا ایسی ہی ہو جیسا کہ آپ کو اپنے والدین مربی کے ساتھ تھی اور سب طرح سے آپ کو اپنے والدین مربی پر اطمینان تھا تو کیا یہ حالت بھی شرک یا کفر ہے۔ آپ ضرور فرماویں گے کہ یہ حالت