مولوی سیّد محمد احسن صاحب کا جواب بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ محبی فی اللہ و اخی ِ ِ للہ منشی محمد اسحٰق صاحب و منشی بوبہ شاہ صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ عنایت نامہ نے صادر ہو کر محظوظ و مسرور کیا۔ جزاکم اللہ خیرالجزاء آپ کو تحقیق مسائل کا بڑا شوق ہے اور اس پر یہ بڑی خوبی ہے کہ کتاب و سنت ہی آپ کا مطمح نظر ہے آپ جیسے صاحبوں سے قبول حق کی بڑی امیدؔ ہے تقلید کی صورت میں یہ امید نہیں ہوتی۔ خط حال میں آپ نے چند اعتراض کئے ہیں۔ میرے پہلے خط کو آپ نے غور سے ملاحظہ نہیں فرمایا لہذا مکرر لکھتا ہوں۔ اعتراض اول حضرت مرزا صاحب نے اپنے اور مسیح علیہ السلام کے لئے ایک ایسا درجہ ثابت کیا ہے جس کو ابن اللہ کے ساتھ تعبیر کر سکتے ہیں۔ حالانکہ کتاب و سنت میں بالکل اس کا ثبوت نہیں ہے۔ الجواب بے شک بہت صحیح ہے۔ کتاب و سنت میں اس مرتبہ کے ثبوت کا کیا ذکر ہے۔ اس کی نفی موجود ہے اور یہ تو مذہب یہود و نصاریٰ کا ہے۔ ۱؂۔اور فرمایا ۲؂ لیکن اے میرے محب فی اللہ مرزا صاحب اس کے کب قائل ہیں وہ اس کی نسبت یہ کہتے ہیں ’’ جس کو ناپاک طبیعتوں نے مشرکانہ طور پر سمجھ لیا ہے اور ذرا امکان کو جو ہالکۃ الذات باطلۃ الحقیقت ہے حضرت اعلیٰ واجب الوجوب کے ساتھ برابر ٹھہرا دیا ہے ‘‘ انتہی بلفظہٖ۔ مرزا صاحب کے کلام سے صحیح و صریح معلوم ہوا کہ جو لوگ ایسی تثلیث کے قائل ہیں اُن کی طبیعتیں ناپاک ہیں اور وہ مشرک ہیں اور عیسٰیؑ ابن مریم ہوں یا ان کے