وحدت مجازی وغیرہ پر محمول کرنے میں کوشش کیؔ ہے مرزا صاحب کے نزدیک رائیگاں ہے ؂ یا رب مباد کس را مخدوم بے عنایت۔ قولکم کتاب منصب امامت و صراط المستقیم الخ۔ شاید آیہ کریمہ ۱؂ آپ کے نزدیک منسوخ ہو گئی ہو گی جو منصب وغیرہ پر چلنے کی ہدایت ہوتی ہے علاوہ بریں منصب امامت اور صراط المستقیم کو تقویت الایمان پر کیا ترجیح ہے جو اُسے چھوڑ کر اُن پر چلیں۔ صفحہ ۶۲۔ تقویت الایمان ملاحظہ فرمائیے کہ اس میں مولانا محمد اسمٰعیل شہید علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں ۔ بلکہ بعض جھوٹے دغا بازوں نے اس بات کو خود پیغمبر کی طرف نسبت کیا ہے کہ انہوں نے خود فرمایا ہے انا احمدبلا میم اور اسی طرح ایک بڑی عبارت عربی کی بنا کر اس میں ایسی ایسی خرافتیں جمع کر کر اس کا نام خطبۃالافتخار رکھا ہے۔ اور اس کو حضرت علیؓ مرتضےٰ کی طرف نسبت کیا ہے سُبْحَانَکَ ھٰذَا بُھْتَانٌ عَظِیْمٌ اللہ سارے جھوٹوں کا مونہہ کالا کرے انتہٰی۔ یہ عبارت مولانا مرحوم کی دربارہ رد لفظ احمد بلا میم نص صریح ہے اس کے مقابلہ میں منصب اور صراط مستقیم کے مضامین مبہم قابل حجت نہیں ہو سکتے بلکہ صحیحین کی حدیث میں آیا ہے رسول صلعم نے فرمایا لا تطرونی کما اطرت النصارٰی عیسَی ابن مریم فانّما انا عبدہ فقولوا عبداللّٰہ و رسولہٗ فقط۔ جناب من خاکساروں نے آپ کو قدیمی شفیق تصور کر کے دوبارہ تصدیعہ دیا ہے تاکہ خدشات ہمارے رفع ہو جائیں شاید اگر جناب کے نزدیک کوئی لفظ ناملائم معلوم ہو تو معاف فرمادیں۔ اگر معاملہ دینی نہ ہوتا تو جو کچھ آپ تحریر فرما دیتے اس کے قبول کرنے میں عذر نہ ہوتا چونکہ یہ معاملہ متعلق دین اور اعتقاد کے ہے اور وجودیوں کو ہم جمیع پیشوایان دین سے مخالف و مخرب شریعت سنتے آئے ہیں خصوص جملہ فرق اسلام سے یہ فرقہ بد ترین ہے پھر کیونکر صبر کیا جاتا۔ عریضہ بوبہ شاہ و محمداسحٰق مورخہ ۳۰۔ اگست ۱۸۹۱ء ؁