اس آیہ کریمہ کا حال بھی آیت کریمہ وَ مَا رَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ کا سا ہے فقد مرّ۔ قولکم کُلُّ شَیْءٍ ھَالِکٌ الخ۔آپ کے نزدیک کسی شے کا ہلاک و فنا ہونا اور اس کا کسی دوسری چیز سے متحد ہو جانا ایک ہی بات ہو گی مع ھٰذا جب ہر چیز کو ہلاک ہونا اور بقول آپ کے ذات باری تعالیٰ سے متحد ہو جانا ضروری ہے تو اس میں جناب رسول مقبول علیہ الصلوٰۃ والسلام کی کیا خصوصیت ہوئی آپ وحدت الوجود کے مسئلہ کو یہاں کھپانا چاہتے ہیں لیکن آپ کے پیر کا سیاق و سباق کلام اُسے کھپنے نہیں دیتا اور آپ اپنے پیر صاحب کا کلام ملاحظہ کیجئے قولکم خلق اٰدم علٰی صورتہٖ الخ۔ مرجع قریب ہوتے ہوتے کیا ضرور ہے کہ بعید کی طرف ضمیر راجع کی جائے مع ھٰذا یہ بھی صفات مختصہبالنبی الکریم علیہ الصلوٰۃ والسلام سے نہ ہو گا ذرا تامل کیجئے قولکم اے میرے پیارے الخ۔ جناب رسول مقبول علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مظہر ہونے میں شک کرنا فی الواقع کسی مومن کا کام نہیں لیکن اور کون سی چیز ہے جو مظہر نہیں ہے ہر چہ بینی بدانکہ مظہر او ست ۔ سبحان اللہ اپنے لئے ابن اللہ ہونے کا دعویٰ اور جناب رسول مقبول علیہ الصلوٰۃ والسلام کے لئے صرف مظہر ہونا جس میں ادنیٰ سے ادنیٰ ممکن آپ کا شریک ہے۔ آفرین باد بریں ہمت مردانۂ او۔ حاصل یہ کہ ان اشعار میں وحدت مجازی مراد لینے سے بقرینہ سیاق و سباق کلام مرزا صاحب کے فوقیت علی النبی الکریم علیہ الصلوٰۃ والسلام ثابت ہوتی ہے اور وحدت حقیقی مقصود ہو تو ۔۔۔ غُلّات کا مذہب ماننا پڑتا ہے و کلاھما کفر بالاجماع قولکم اس آیہ کے کیا معنے ہوں گے قل ان کان الخ۔ جناب من اس محاورہ اور طرز استعمال میں خدشہ نہیں ہے ۔ خدشہ یہ ہے کہ اگر مرزا صاحب کا اشعار سابقہ میں اتحاد حقیقی مقصود و مراد نہ ہو تو پھر ان اشعار میں کون سی بات ہے جس کے سبب سے کوئی ان کو الحاد اور کفر کی طرف منسوب کرے گا اس شعر سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ مرزا صاحب کے اشعار سابقہ میں وحدت حقیقی مراد ہے جس پر ان کو خدشہ ہوا کہ علمائے شریعت ملحد کہیں گے پس آپ نے جو کچھ ان کے کلام کو