جناب رسول مقبول علیہ الصلوٰۃ والسلام پر افضل و فایق قرار دینا ہے علاوہ بریں مرزا صاحب اس مقام پر جناب رسول مقبول علیہ الصلوٰۃ والسلام کے علو شان اور فوقیت علی المسیح علیہ السلام بیان کرنا چاہتے ہیں اور اس عام وصف کے بیان کرنے سے وہ مطلب حاصل نہیں ہو سکتا جس سے مرزاصاحب کا کلام مہمل ہوا جاتا ہے اس لئے ضرور دوسری قسم معنے اتحاد حقیقی اور وحدت ذاتی مراد ہونے چاہیئے اور یہی ہمارا سوال تھا کہ ان شعروں سے اتحاد الممکن مع الواجب ثابت ہوتا ہے جو باجماع المسلمین باطل ہے۔ اشھد ان محمدا عبدہ و رسولہ228 سبحان الّذی اَسْرٰی بِعَبْدِہٖ228 فَاَوْحٰی اِلٰی عَبْدِہٖ مَا اَوْحٰی228 قُلْ اِنَّمَا اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ یُوْحٰی اِلَیَّ228 آپ کو واضح ہو گیا کہ صرف لَا تَقْرَبُوا الصَّلٰوۃَ پر آپ ہی نے نظر کو مقصور و محصور رکھا ہے نہ خاکساروں نے۔ قولکم ان آیات کے کیا معنے ہوں گے دَنٰی فَتَدَلّٰی الخ۔ جناب من ان آیات کے وہی معنے ہیں جو عائشہ رضی اللہ عنہا اور یا جو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے منقول ہیں۔ لیکن وہ آپ کو کیا مفید ہیں قولکم وَ مَا رَمَیْتَ الخ۔ اس قسم کا خطاب اوروں کے حق میں بھی موجود ہے جو مسیح علیہ السلام سےؔ کم ہیں۔ ۱؂ ۔(سورۃ الزمر) (یٰسٓ)۲؂ ۳؂ ۔کنت مرضت فلم تعدنی۔ مگر مرزا صاحب اپنے شعر میں ایسا وصف بیان کرنا چاہتے ہیں جو آپ کی ذات کامل الصفات پر ختم ہو گیا ہو اور اس سے آپ کا کمال علو منصب ثابت ہو برخلاف آیہ کریمہ ۴؂ کے کہ اُس سے یہ مقصود نہیں پس مرزا صاحب کے شعر کو آیت کریمہ پر قیاس کرنا درست نہیں ہو سکتا قولکم وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْھَوٰی۔الخ۔ غزوہ بدر اور غزوہ حدیبیہ میں جو غلطی آپ سے ہوئی تھی بقول آپ کے جناب باری عزّ اسمہٗ سے ہوئی ہو گی۔ افسوس مرزا صاحب کے عشق نے آپ کو کہاں سے کہاں پہنچایا سچ ہے حبک الشیء یعمی و یصم قولکم اِنَّ الَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَکَ الخ۔