بوبہ شاہ صاحب اور محمد اسحق صاحب کا جواب
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
از خاکسار بوبہ شاہ و محمد اسحٰق بخدمت گرامی جناب مولانا صاحب مولوی محمد احسن صاحب دام مجدھم السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آپ کا گرامی نامہ موصول ہو کر کاشف مضامین مندرجہ ہوا اس جواب کے دیکھنے سے واضح ہوتا ہے کہ آپ نے نیاز نامہ کو کافی توجہ سے ملاحظہ نہیں فرمایا جناب من اصل خدشہ یہ ہے کہ جب مرزا صاحب نے اپنےؔ اور مسیح علیہ السلام کے لئے ایک ایسا درجہ ثابت کیا ہے جس کو ابن اللہ ہونے سے تعبیر کر سکتے ہیں حالانکہ کتاب و سنت میں اس کا بالکل ثبوت نہیں۔ تو یہ استفسار پیدا ہوا کہ اب جناب رسول مقبول علیہ الصلوٰۃ والسلام کے لئے کون سا درجہ باقی رہا۔ اُس کے جواب میں مرزا صاحب نے فرمایا کہ آپ کے لئے ایک اعلےٰ مقام اور برتر مرتبہ جو آپ کی ذات کمال الصفات پر ختم ہو گیا ہے جس کی کیفیت کو پہنچنا ہی کسی دوسرے کا کام نہیں۔ چہ جائیکہ وہ کسی اور کو حاصل ہو سکے۔ اسی جواب کے ذیل میں مرزا صاحب نے یہ اشعار تحریر فرمائے ہیں جن سے جناب رسول مقبو ل علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ذات باری تعالیٰ سے اتحاد مفہوم ہوتا ہے اب اس اتحاد سے وحدت مجازی اور اتحاد صوری مراد ہے یا اتحاد حقیقی اور وحدت ذاتی۔ پہلی قسم کی وحدت تو آپ کے خادمین اولیاء کو بھی حاصل اور ثابت ہے جو مسیح علیہ السلام سے بدرجہا کم ہیں۔ آیہ ۱ اور حدیث کنت سمعہ الذی یسمع بہ الخ۔ ملاحظہ ہو پس اس قسم کی مراد ہونے کی تقدیر پر مرزا صاحب کا اپنے لئے مرتبہ ابنیت اور مساوات بالمسیح علیہ السلام ثابت کرنا اور اس کے مقابلہ میں جناب رسول مقبول علیہ الصلوٰۃ والسلام کے لئے وہ مرتبہ بیان کرنا جو حضرت مسیح علیہ السلام سے بدرجہا کم مرتبہ کے لوگوں کے لئے بھی ثابت اور متحقق ہے درحقیقت اپنے آپ کو