جو معانی ان محاورات کے ہیں وہی اس شعر کے معنے ہو سکتے ہیں۔ رابعاً کتاب منصب مامت اور صراط المستقیم مصنفہ مولانا و مقتدانا جناب شہید فی سبیل اللہ مولانا محمد اسمٰعیل صاحب کی ملاحظہ ہو ان دونوں کتابوں کو آپ شرح پاویں گے اُن مضامین کی جو حضرت اقدس کی تصانیف میں پائی جاتی ہیں۔ ’’ ہمچنین چون امواج جذب و کشش رحمانی نفس کاملہ این طالب را در قعر لجج بحا را حدیت فرو مے کشد زمزمہ انا الحق و لبس فی جبتی سوی اللّٰہ ازان سر بر میزند کہ کلام ہدایت الیتام کنت سمعہ الذی یسمع بہٖ و بصرہ الذی یبصر بہ و یدہ التی یبطش بھا و رجلہ التی یمشی بھا و در روایتے و لسانہ الذی یتکلم بہٖ۔ حکایتے است ازان۔ و اذ قال اللّٰہ علٰی لسان نبیّہ سمع اللّٰہ لمن حمدہ و یقضی اللّٰہ علٰی لسان نبیّہ ما شائکنایتے است ازان این مقالے است بس باریک و مسئلہ است بس نازک۔ باید کہ دران نیک تامل کنی و تفصیل او را بر معانی دیگر تفویض نمائی شعر و وراء ذاک فلا اقول لانہ اثر لسان النطق عنہ اخرس و زِنہار برین معاملہ تعجب نہ نمائی و بانکار پیش نہ آئی زیرا کہ چون از نارِ وادی ندائے ۱ سر بر زد اگر از نفس کاملہ کہ اشرف موجودات و نمونہ حضرت ذات است آواز انا الحق بر آید محل تعجب نیست ‘‘ الخ۔ پس اس مجدد الوقت کا کوئی کلام مخالف کلام مولانا محمد اسمٰعیل صاحب کے ہرگز ہرگز نہیں ہے بلکہ ایک صاحب کا کلام دوسرے صاحب کے کلام کی شرح ہے البتہ ناظرین کی نظر اور سمجھ کا قصور ہے اگر رسالہ اعلام آپ کو نہ ملے گا تو میں انشاء اللہ تعالیٰ خرید کر روانہ کروں گا اپنے حالات خیریت سمات سے ہمیشہ مطلع فرماتے رہو مورخہ ۳۱؍ جولائی ۱۸۹۱ء ۔
الراقم محمد احسن مہتمم مصارف ریاست بھوپال