رتبہ بھی کوئی نہیں جان سکتا۔ مثل مشہور ہے۔ ولی را ولی مے شناسد۔ اور آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم اپنی خودی اور ہوا ؤ ہوس سے ایسے جدا اور علیحدہ ہو گئے ہیں کہ کوئی امر مقتضائے خودی اور خودبینی کا سوائے مرضیات احدیت کے ان میں پایا نہیں جاتا۔ حدیث اصح الصحیح میں آنحضرت کے خادمین اولیا کی نسبت موجود ہے۔ کنت سمعہ الذی یسمع بہ و بصرہ الذی یبصر بہ و یدہ التی یبطش بھا و رجلہ التی یمشی بھا و لسانہ الذی یتکلم بہٖ الٰی اٰخرہٖ۔ آپ اس حدیث کے کیا معنے سمجھتے ہیں اُسی قسم کے یہ اشعار ہیں
زان نمط شد محو دلبر کز کمالِ اتحاد
پیکر او شد سراسر صورتِ ربِ رحیم
کُلُّ شَیْءٍ ھَالِکٌ اِلَّا وَجْہَہ‘ کے کیا معنے ہیں اور خلق آدمؑ علٰی صورتہٖ کے معنے پر غور کرو اگرچہ ضمیر صورتہٖ میں بہت اختلاف ہے مگر جس صورت میں کہ ضمیر صورتہٖ کی راجع ہو طرف اللہ کے تو پھر کیا معنے ہوں گے۔ وہی معنے اس شعر کے سمجھے جائیں۔
بوئے محبوبِ حقیقی مے دمد زان روئے پاک
ذات حقانی صفاتش مظہر ذات قدیم
اے میرے پیارے دوست تم ہر جمعہ کے خطبہ میں سنتے ہو گے کہ السّلطان ظلّ اللّٰہ الخ۔ جب ایک ادنیٰ سلطان کے واسطے ایسا کچھ ارشاد ہے کہ وہ ظل اللہ ہے تو پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مظہر الٰہی ہونے میں کون مومن شک کر سکتا ہے
گرچہ منسوبم کند کس سوئے الحاد و ضلال
چون دل احمد نمے بینم د گر عرش عظیم
مہربان من اس آیت کے کیا معنے ہیں۔ ۱۔ امام شافعی و نیز کبراؔ ء مجتہدین امت کے اشعار میں اس قسم کا محاورہ پایا جاتا ہے
ان کان رفضًا حب اٰل محمدٍ
فلیشھد الثقلان انی رافض