مولوی محمد احسن صاحب کا جواب
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
از عاجز سید محمد احسن بخدمت بوبہ شاہ و محمد اسحق صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ دو خط آپ کے صادر ہوئے حال یہ ہے کہ رسائل اعلام الناس اب تقسیم مفت میں باقی نہیں رہے پچاس جلد اس احقر کو ملی تھیں وہ سب تقسیم ہو گئیں۔ اور لاہور میں چند اشخاص کے پاس یہ رسائل پہنچ گئے ہیں۔ آپ کسی سے خرید فرما لیجئے اور نسبت اشعار مندرجہ توضیح مرام کے جو خدشات آپ نے تحریر فرمائے ہیں وہ بہ سبب عدم غور اور تامل کے ہیں
شان احمد را کہ داند جز خداوند کریم
آنچنان از خود جدا شد کزمیان افتادمیم
اولؔ تو ان اشعار کا مطلب اور شرح خود حضرت اقدس نے سیاق اور سباق اشعار میں مفصل اور مشرح کر کر لکھ دی ہے کہ جس کے مطالعہ سے مخلصین کو کسی طرح کا خدشہ اور شبہ باقی نہیں رہتا۔ آپ اس مقام کو مطالعہ فرماویں اور اگر صرف لا تقربوا الصّلٰوۃ پر نظر رہے گی تو شکوک و شبہات کیونکر رفع ہو سکتے ہیں۔ ثانیاً ان آیات کے کیا معنی ہیں۔ ۱ ۲۔ ۳ ۴ و غیر ذٰلک من الاٰیات الکثیرۃ۔ جو معنے ان آیات کے آپ سمجھیں ان اشعار کو تفسیر اس کی تصور فرماویں ۔ ثالثاً ان اشعار میں کوئی خدشہ ظاہری بھی نہیں معلوم ہوتا حاصل مطلب یہ ہے کہ رتبہ و درجہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو سوائے خدائے کریم کے کوئی نہیں جان سکتا۔ آنحضرت کے رتبہ اعلیٰ کا تو ذکر ہی کیا ہے کسی ادنیٰ ولی کا