ہو تو ایک رسالہ بذریعہ پمفلٹ عنایت فرما کر اس کی قیمت اور خرچ ڈاک سے مطلع فرماویں۔ انشاء اللہ قیمت مذکور بذریعہ ٹکٹ ارسال خدمت کی جائے گی۔ یا پہلے اطلاع دیں کہ جس قدر قیمت اس کی ہو ترسیل خدمت کی جائے گی امید کہ جوابؔ سے ضرور مطلع فرماویں۔ پتہ یہ ہے لاہور ڈڈلیٹر آفس پاس محمد اسحٰق ملازم ڈڈلیٹر کے پہنچے۔ مکرر یہ کہ چند اشعار مؤلفہ مرزا قادیانی رسالہ توضیح المرام میں ثبت ہیں۔ ان کے مطلب پر خدشہ گذرتا ہے مولانا مولوی محمد اسمٰعیل رحمۃ اللہ نے تقویت الایمان میں ایسے مضامین کی مذمت کی ہے۔ چونکہ مولانا مرحوم تیرھویں صدی کے مجدد تھے اور مرزا کو مجددیت کا دعویٰ چودھویں صدی مرکوز خاطر ہے۔ پھر ایک بات کو ایک مجدد ناجائز اور گنا ہ تحریر فرمائے دوسرا مجدد اسی بات کو اپنی کتاب میں ترویج دے یہ امر کیونکر جائز سمجھا جائے۔ اشعار ہیں۔ شان احمد را کہ داند جز خدا وندِ کریم آنچنان از خود جدا شد کز میان افتاد میم زان نمط شد محو دلبر کز کمالِ اتحاد پیکر او شد سراسر صورتِ ربِّ رحیم بوئے محبوبِ حقیقی مے دمد زان روئے پاک ذات حقّانی صفاتش مظہرِ ذاتِ قدیم گرچہ منسوبم کند کس سوئے الحاد و ضلال چون دلِ احمدؐ نہ مے بینم دگر عرشِ عظیم ان اشعار کا مضمون سر بسر عقیدہ وجودیہ پر دال ہے جس سے گروہ موحدین کو سوں متنفر چلا آتا ہے۔ مسلمانوں میں وجودی ہنود میں بیدانتی باہم ایک ہی ہیں۔ تعجب ہے کہ مرزا مدعی مجددیت ہو کر ایسے کلمہ ملحدانہ اپنی تالیف میں درج کرے۔ دلیری یہ۔ گرچہ منصوبم کند کس سوئے الحاد و ضلال۔ یعنی گو مجھے کوئی ملحد یا زندیق پڑا کہے میرا کیا بگاڑ سکتا ہے۔ ہاں دنیا میں تو کوئی کسی کا کچھ بگاڑ نہیں سکتا اِلاَّ روز حشر اس اَحکم الحاکمین کے سامنے قلعی کھل جائے گی۔