مرؔ اسلت نمبر (۲) ۱؂ ما بین ُمنشی ُ بوبہ شاہ صاحب و منشی محمدؐ اسحق صاحب اور مولوی سیّد محمدؐ احسن صاحب بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ از خاکسار بوبہ شاہ و محمد اسحق بخدمت مولانا مولوی محمد احسن صاحب زاد لطفہ‘ بعد مراسم مسنون تمنا مشحون مدعا آنکہ ۔ شاید جناب کو یاد ہو گا جب آپ ہمراہ لشکر گورنر جنرل لارڈ رپن صاحب بہادر مقام لاہور میں تشریف لائے۔ چند اشخاص خدمت میں حاضر ہو کر مشرف زیارت ہوئے تھے لیکن بعد اس کے کبھی اتفاق زیارت نصیب نہ ہوا اور نہ کبھی باہم خط و کتابت کی نوبت پہنچی اگرچہ اس بات کا تو علم تھا کہ آپ ریاست بھوپال میں ایک مدت سے قیام پذیر ہیں۔ جب جد عبد الرحمہ۱؂ ۔۔۔ راقم محمدؐ اسحٰق ریاست میں پنشن خوار ہوئے انہوں نے چند بار آپ کا ذکر تحریر فرمایا۔اس وقت وجہ تصدیعہ دہی یہ ہے کہ ہم نے سنا ہے کہ جناب نے ایک رسالہ موسومہ اعلام الناس دربارہ تائید مرزا غلام احمد قادیانی تالیف فرما کر طبع کر دیا ہے اور اس میں دلائل ان کے دعویٰ مسیح ہونے کے بڑے پر زور لکھے ہیں جب سے یہ بات سنی ہے اس رسالہ کے معائنہ کا از حد شوق ہے۔ اگرچہ ہم ہر دو اب تک مرزا قادیانی کے معتقد نہیں ہیں اور بڑا انتظار آپ کے رسالہ کا ہے۔ اگر ممکن