ہوںؔ اور سب کچھ بیان کرچکا ہوں۔ حاجت اعادہ نہیں ہے۔ فقط میرزا غلام احمد ۲۲؍ جولائی ۱۸۹۱ء پرچہ نمبر ۶! مولوی صاحب۔ افسوس آپ نے پھر بھی میرے اصل سوال کا جواب صاف اور قطعی نہ دیا * اور نہ فرمایا کہ صحیح بخاری و مسلم کی احادیث جملہ صحیح ہیں۔(۱) یا جملہ موضوع یا مختلط یعنی بعض ان میں صحیح ہیں بعض موضوع باوجودیکہ میرا یہ سوال آپ نے شروع تحریر میں نقل کردیا جس سے یہ گمان کہ آپ نے مطلب سوال نہ سمجھاہو رفع ہوگیا۔ ہر چند آپ نے یہ بات بتصریح کہہ دی ہے کہ اگر میں کسی حدیث صحیح بخاری و صحیح مسلم کو کتاب اللہ کے مرزا صاحب کے جوابات ہمارے سوالات کے مقابلہ میں بعض رؤساء لدھیانہ نے سنے تو اس کی نظر میں ایک چشم دیدحکایت بیان کی۔ اس حکایت کا اس مقام میں نقل کرنا لطف سے خالی نہیں رئیس مذکور نے بیان کیا کہ ایک رسالہ کے ایک کمان افسر ایک یورپین صاحب تھے جو رات کو دو گھنٹے دربار کیا کرتے اور اس میں اپنی فوج کے سرداروں کے معروضات اور رسالہ کے یومیہ واقعات سنتے۔ ایک دن ایک سردار کی اونٹنی کھوئی گئی۔ صاحب کمان افسر کو یہ حال معلوم ہوا تو انہوں نے رات کے دربار میں سردار اونٹنی کے مالک سے کہا کہ سردار صاحب اس واقعہ کے متعلق مجھے آپ صرف تین باتوں کا جواب دیں اور کچھ نہ فرماویں یہ اس لئے کہہ دیا تھا کہ صاحب بہادر کو اس بات کا علم تھا کہ سردار صاحب بڑے باتونی ہیں وہ مطلب کی بات کا جواب جلد نہ دیں گے۔ وہ تین باتیں یہ ہیں کہ اونٹنی کس پڑاؤ پر کھوئی گئی اور کس وقت و تاریخ۔ سردار صاحب نے یہ تمہید شروع کی کہ حضور وہ اونٹنی میں نے ساڑھے تین سو روپیہ کو خریدی تھی مگر اس کے پانسو روپیہ مانگے جاتے تھے۔ صاحب نے کہا کہ سردار صاحب میں نے یہ بات آپ سے نہیں پوچھی جو میں نے آپ سے پوچھا ہے اس کا جواب دیں۔ سردار صاحب نے فرمایا کہ حضور وہ اونٹنی میں نے بیکانیر کی منڈی سے خریدی تھی۔ اس پر پھر صاحب بہادر نے فرمایا کہ سردار صاحب یہ میرے سوال کا جواب نہیں۔ آپ میرے سوالات کا جواب دیں۔ سردار صاحب نے فرمایا کہ ہاں حضور جواب دیتا ہوں وہ اونٹنی سو کوس روز چلتی تھی اس پر صاحب نے پھر وہی عذر کیا کہ سردار صاحب آپ اور تکلیف نہ کریں صرف میرے سوالات کا جواب دیں اس پر سردار صاحب نے ان تینوں سوالوں کا جواب کوئی نہ دیا۔ اور اپنی اونٹنی کے وقائع عمری شمار کرنا شروع کیا۔ یہاں تک کہ دربار کا وقت مقرری گذر گیا اور ان سوالات ثلٰثہ کا جواب نہ دیا۔ (ابو سعید( مولوی صاحب کی طبعزادیا مولوی صاحب کے کسی فرضی رئیس کی اس خانہ ساز کہانی پر ہم سوائے اس کے اور کچھ کہنا نہیں چاہتے کہ دقیقہ رس ناظرین خود ہی فیصلہ کرلیں گے کہ یہ داستان کہاں تک بجا اور باموقع ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ مولوی صاحب کے ناحق کے افسوس سے کوئی سچی ہمدردی کرنے والا پیدا نہ ہوگا۔ ایک ناشکرگذار بے صبر کی طرح انہیں سیری بخش سامان مل رہا ہے اور وہ افسوس و شکایت کئے جارہے ہیں۔ معلوم نہیں ایسا کفور مبین بننے سے آپ کیا اپنے تئیں ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ مولوی صاحب ایسے صاف اور مسکت جواب آپ کو مل رہے ہیں کہ ان کی قوت و سطوت نے آپ کو مختل الحواس بنادیا ہے ورنہ آپ خود ہی اس جملہ پر جو