وجہ ؔ سے آپ مجھ کو مفتری قرار دیتے ہیں۔ آپ کو ڈرنا چاہئے۔ انسان جو بے وجہ تہمت اپنے بھائی کی نسبت تجویز کرتا ہے وہ خدا تعالیٰ کی جناب میں اس لائق ہوجاتا ہے کہ کوئی دوسرا وہی تہمت اس پر کرے۔ خدا تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ مجھ کو پختہ طور پر اس بات پر یقین ہے کہ اگر لَمْ یَزَل کا لفظ حدیث میں صحیح اور مطابق واقعہ ہے تو اس کا مصداق مجرد نگرانی حالات ہرگز نہیں ٹھہر سکتا مثلاً اگر کوئی شخص کہے کہ میں زید کو دس برس سے برابر دیکھتا ہوں کہ وہ دہلی جانے کا ہمیشہ ارادہ رکھتا ہے تو کیااس سے یہ سمجھا جائے گا کہ زید نے کبھی زبان سے اس مدت دس برس میں دہلی جانے کا ارادہ ظاہر نہیں کیا اور بفرض محال اگر یہ اجمالی امر ہے تو جیسا اجمال اس بات کا ہے کہ زبان سے کچھ نہ کہا ہو یہ احتمال بھی تو ہے کہ زبان سے کہا ہو لیکن لم یزل کا لفظ احتمال کے امر کو دور کرتا ہے ایک مدت تک کسی امر کی نسبت وہ حالت بنائے رکھنا جس کا ادا کرنا زبان کا کام ہے صریح اس بات پر دلیل ہے کہ اتنی لمبی مدت میں کبھی تو زبان سے بھی کام لیا ہوگا۔
پھر آپ فرماتے ہیں کہ تمہارا یہ کہنا آپ ابن عربی کے مخالف تھے تو کیوں ناحق اس کا ذکر کیا۔ باطل ہے۔ کیونکہ میرے کلام کے صریح منطوق سے مختلف ہے۔ میں کہتا ہوں کہ آپ کے کلام کا آپ کے ابتدائی بیان میں یہ صریح منطوق بھی پایا جاتا ہے کہ آپ ابن عربی کے مؤیدہیں؟ اگر آپ مؤید ہیں تو آپ نے صحیح بخاری کی حدیث کیوں نقل کی ہے؟ جس میں لکھا ہے کہ محدث بھی نبی کی طرح مرسل ہے اور آپ نے کیوں محمد اسماعیل صاحب کا یہ قول نقل کیا ہے کہ محدث کی وحی نبی کی طرح دخل شیطانی سے منزّ ہ کی جاتی ہے۔ اگر آپ بخاری کی حدیث کو نہیں مانتے تو گزشتہراصلوٰۃ ابھی اقرار کردیں کہ میں محدث کی وحی کو دخل شیطانی سے منزّ ہ ہونے والی نہیں سمجھتا! تعجب کہ ایک طرف تو آپ بخاری بخاری کرتے ہیں اور ایک طرف اس کے برخلاف چلتے ہیں! پھر جب کہ آپ کا بخاری پر ایمان ہے کہ اس کی سب حدیثیں صحیح ہیں تو اس صورت میں تو آپ کو ابن عربی سے اتفاق کرناپڑے گا کیونکہ اگر کسی محدث پر یہ کھل جائے کہ فلاں حدیث موضوع ہے اور وہ باربار کی وحی سے اس پر قائم کیا جائے تو کیا اب حسب منشاء بخاری یہ اعتقاد نہیں کریں گے کہ محدث کو وہ حدیث موضوع مان لینی چاہئے۔ پھر جب کہ آپ کا یہ اعتقاد ہے تو میں نے آپ پر کیا افترا کیا ؟ حضرت مولوی صاحب آپ ایسے الفاظ کو کیوں استعمال کرتے ہیں۔ ا تقوا اللہ کے مضمون کو کیوں اپنے دل میں قائم نہیں کرتے۔ مفتری‘ ملعون اور دین سے خارج ہوتے ہیں۔ اجتہادی طور کی بات کو کسی نہج سے گو غلط ہی سہی سمجھ لینا اور چیز ہے اور عمداً ایک واقعہ معلومۃ الحقیقت کے برخلاف کہنا یہ اور امر ہے۔(۱) آپ کے خلاصہ سوال کی نسبت میرا یہی بیان ہے کہ میں اس طرح سے کہ جیسے حنفی لوگ امام اعظم صاحبؒ پر محض تقلید کے طور پر ایمان رکھتے ہیں بخاری اور مسلم پر ایمان نہیں رکھتا۔ ان کی صحت کو ظن کے طور پر مانتا ہوں اور اَلغیب عنداللّٰہ کہتا ہوں۔ مجھے ان کے بارے میں رویت کی مانند علم نہیں ہے۔ اگر کسی حدیث کو مخالف کتاب اللہ پاؤں گا تو بغیر تطبیق اور فیصلہ کے ہرگز اس کو قول رسول کریم نہیں سمجھوں گا۔ گو حدیث صحیح میرا مذہب ہے اور قرآن کے معیار ٹھہرانے میں پہلے عرض کر آیا