مواؔ فق نہ پاؤں گا تو اس کو موضوع قرار دوں گا۔ کلام رسول صلعم نہ سمجھوں گا(۲) اور اپنے پرچہ نمبر۴ میں آپ صاف کہہ چکے ہیں کہ ان کتابوں کے وہ مقامات جن میں تعارض ہے تحریف سے خالی نہیں۔ مگر اس میں یہ تصریح نہیں ہے کہ صحیح بخاری وصحیح مسلم میں ایسی کوئی حدیث ہے یانہیں جس کو آپ اس اصول کی شہادت سے موضوع قرار دیتے ہیں اور طرفہ یہ کہ ان مقامات ازالۃ الاوہام میں جو میرے پرچہ نمبر۷ میں منقول ہوئے ہیں آپ صحیحین کی بعض احادیث کو موضوع قرار دے چکے ہیں مگر آپ پرچہ نمبر۸ میں اس سے انکار کرتے ہیں اور یہ فرماتے ہیں کہ جو کچھ میں نے وہاں کہا ہے شرطیہ طور پر کہا ہے کہ بشرط تعارض وعدم موافقت ومطابقت وہ احادیث موضوع ہیں۔ میرا وہ قطعی فیصلہ نہیں ہے۔ باوجودیکہ ان مقامات میں آپ نے یہ شرط نہیں لگائی بلکہ ان احادیث کا باہم تعارض خوب زور سے ثابت کیا اور پھر ان کو موضوع قرار دیا ہے۔ آپ کے میرے اصل سوال کا صاف جواب نہ دینے اور ازا لۃ الاوہام کی تصریحات مذکورہ پرچہ نمبر۷ سے انکار کرجانے کی وجہ یہ ہے کہ آپ اس سوال کے دونو شق جواب میں پھنستے ہیں اور کوئی شق قطعی طور پر اختیار نہیں کرسکتے اگر آپ یہ شق جواب اختیار کریں کہ وہ احادیث سب کی سب صحیح ہیں تو اس سے آپ پر سخت مصیبت عائد ہوتی ہے کیونکہ صحیح بخاری و صحیح مسلم کی احادیث آپ کے عقائد مستحدثہ جدیدہ کے صریح خلاف ہیں ان احادیث کو صحیح مان کر آپ کا کوئی عقیدہ جدیدہ قائم وثابت نہیں رہ سکتا اس وجہ سے آپ نے یہ مذہب اختیار کیا ہے کہ احادیث صحیحین کو بلاوقفہ نظر صحیح تسلیم کرنا اندھا پن اور تقلید بلا دلیل ہے اور اگر آپ یہ شق جواب اختیار کریں کہ حدیث صحیحین سب کی سب موضوع یاازاں جملہ بعض صحیح اور بعض موضوع ہیں تو اس سے عام اہل اسلام اور خصوصاً اہل حدیث جن کے بعض عوام آپ کے دام میں پھنس گئے ہیں آپ سے بے اعتقاد ہوتے اور کفر یافسق اور بدعت کا فتویٰ لگانے کو تیار ہوتے ہیں یہی* ۱؂ وجہ ہے کہ آپ میرے سوال کا صاف اور قطعی جواب نہیں دیتے صرف شرطی شروع مضمون میں آپ نے لکھا ہے۔ غور کر کے سمجھ سکتے تھے کہ حضرت مرزا صاحب آپ کو جواب باصواب دے چکے ہیں اور وہ جملہ یہ ہے۔ ’’ہر چند آپ نے یہ بات بتصریح‘‘۔الخ ایڈیٹر مولویؔ صاحب کی تیز فہمی ملاحظہ کے قابل ہے مولوی صاحب کے نزدیک گویا مرزا صاحب نے جواب کی شق ثانی اختیار نہیں کی بایں خیال کہ مبادا عوام مسلمان اور اہل حدیث کا فتویٰ لگانے کو طیار نہ ہوجائیں مگر حیرت ہے کہ اس پر بھی ہمارے آتشیں مزاج مولوی صاحب کی زبان کی ایذا سے حضرت مرزا صاحب بچ نہ سکے۔ مولوی صاحب نے پہلے ہی سے اس بات کو جو سائر اہل حدیث کو کبھی مرزا صاحب کے جواب کی شق ثانی کے اختیار کرنے پر سوجھتی اپنے ذہن میں شدہ ٹھان کر مرزا صاحب کے حق میں وہ فتوے جڑ دیئے اور یوں اہلحدیث کی پیٹھ پر سے ایک فرض کفایہ کا بوجھ ہلکا کردیا آفرین ؂ ایں کا راز تو آید و مرداں چنیں کنند۔ایڈیٹر