صرفؔ ظن یا شک کے درجہ پر ہیں اور فن حدیث کی تحقیقاتیں ان کو ثبوت کامل کے درجہ تک نہیں پہنچا سکتیں اس صورت میں اگر ہم اس محک مقدس سے ان کی تصحیح کیلئے مدد نہ لیں تو گویا ہم ہرگز نہیں چاہتے کہ وہ حدیثیں صحت کاملہ کے درجہ تک پہنچ سکیں۔ میں متعجب ہوں کہ آپ اس بات کے ماننے سے کیوں اور کس وجہ سے رکتے ہیں کہ قرآن کریم کو ایسی احادیث کیلئے محک و معیار ٹھہرایا جاوے؟ کیا آپ قرآن کریم کی ان خوبیوں کے بارے میں کہ وہ محک اور معیار اور میزان ہے کچھ شک میں ہیں؟ آپ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ بخاری اور مسلم کے صحیح ہونے پر اجماع ہوچکا ہے! اب ان کو بہرحال آنکھیں بند کر کے صحیح مان لینا چاہئے! لیکن میں سمجھ نہیں سکتا کہ یہ اجماع کن لوگوں نے کیا ہے اور کس وجہ سے واجب العمل ہوگیا ہے؟ دنیا میں حنفی لوگ پندرہ کروڑ کے قریب ہیں وہ اس اجماع سے منکر ہیں۔ ماسوا اس کے آپ صاحبان ہی فرمایا کرتے ہیں کہ حدیث کو بشرط صحت ماننا چاہئے اور قرآن کریم پر بغیر کسی شرط کے ایمان لانا فرض ہے۔ اب اگرچہ اس بات پر تو ہمارا ایمان ہے کہ جو حدیث صحیح ثابت ہوجائے وہ واجب العمل ہے۔ لیکن اس بات پر ہم کیونکر ایمان لے آویں کہ ہر یک حدیث بخاری اور مسلم کی بغیر کسی شک اور شبہ کے واجب العمل ماننی چاہئے۔ یہ وجوب کس سند شرعی یا نص صریح سے ہوا کرتا ہے۔ کچھ بیان تو کیا ہوتا۔ تفسیر فتح العزیز میں زیر آیت ۱؂ کے لکھا ہے کہ ’’چنانچہ عبادت غیر خدا مطلقاً شرک و کفراست اطاعت غیراو تعالیٰ نیز بالاستقلال کفراست و معنے اطاعت غیر بالاستقلال آنست کہ ربقۂ تقلید اودر گردن انداز دو تقلید او لازم شمارد باوجود ظہور مخالفت حکم اوبحکم اوتعالیٰ۔‘‘ اور مولوی عبداللہ صاحب غزنوی مرحوم بھی اپنے ایک خط میں جو آپ ہی کے نام ہے جو لاہور کی گول سڑک کے باغ میں آپ نے مجھے دیا تھا قرآن کریم کی نسبت چند شرطیں اسی امر کی تائید میں لکھتے ہیں اور وہ یہ ہیں کہ فقیر رااز ابتداء حال میلان بکلام رب عزیز بودو دعاء میکردم کہ یاالہ العالمین دروازہ ہائے کلام خودبریں عاجز بازکن۔ سالہا شدو مصیبت بسیار شدتا بحدے کہ ہر جا کہ مے رفتم بلوامے شدو دل تنگ شد ناگاہ القاشد ۲؂ بعد ازاں رو بقرآن شدو آیاتے کہ درباب توجہ بقرآن بود القامے شد مانند ۳؂ وامثال آن تا بحدیکہ یک روز دیدم کہ قرآن مجید پیش رویم نہادہ شدو القاشد ھٰذَا کِتَابِیْ وَ ھٰذَا عِبَادِیْ فَاقْرَءُ وْا کِتَابِیْ عَلٰی عِبَادِیْ۔پس یہ آیت جو کہ مولوی صاحب اپنے القاء کے رو سے ذکر فرماتے ہیں کہ کیسے فیصلہ