اورؔ معیار اور میزان قرار دے گا وہ بچ جائے گا اور جو اس کو محک قرار نہیں دے گا وہ ہلاک ہوجائے گا۔ اب ناظرین انصاف فرماویں کہ کیا یہ حدیث بآواز بلند نہیں پکارتی کہ احادیث وغیرہ میں جس قدر اختلاف باہمی پائے جاتے ہیں۔ ان کا تصفیہ قرآن کریم کے رو سے کرنا چاہئے۔ ورنہ یہ تو ظاہر ہے کہ اسلام میں تہتر کے قریب فرقے ہوگئے ہیں ہریک اپنے طور پر حدیثیں پیش کرتا ہے اور دوسرے کی حدیثوں کو ضعیف یا موضوع قرار دیتا ہے۔ چنانچہ دیکھنا چاہئے کہ خود حنفیوں کو بخاری اور مسلم کی تحقیق احادیث پر اعتراض ہیں تو اس حالت میں کون فیصلہ کرے؟ آخر قرآن کریم ہی ہے کہ اس گرداب سے اپنے مخلص بندوں کو بچاتا ہے اور اسی عروہ وثقٰی کے پتہ سے اس کے سچے طالب ہلاک ہونے سے بچ جاتے ہیں۔
اور آپ نے جو یہ دریافت فرمایا ہے کہ اس مذہب میں تمہارا کوئی دوسرا ہم خیال بھی ہے تو اس میں یہ عرض ہے کہ وہ تمام لوگ جو اس بات پر ایمان لاتے ہیں کہ قرآن کریم درحقیقت حکم اور رہنما اور امام اور مہیمن اور فرقان اور میزان ہے وہ سب میرے ساتھ شریک ہیں۔ اگر آپ قرآن کریم کی ان عظمتوں پر ایمان لاتے ہیں تو آپ بھی شریک ہیں ۔اور جن لوگوں نے یہ حدیث بیان کی ہے کہ آنحضرت صلعم نے فرمایا ہے کہ ایک فتنہ واقع ہونے والا ہے۔ اس سے خروج بجز ذریعہ قرآن کریم کے ممکن نہیں وہ لوگ بھی میرے ساتھ شریک ہیں اور عمر فاروق جس نے کہا تھا حسبنا کتاب اللہ وہ بھی میرے ساتھ شریک ہیں اور دوسرے بہت سے اکابر ہیں جن کے ذکر کرنے کیلئے ایک دفترچاہئے صرف نمونہ کے طور پر لکھتا ہوں۔ تفسیر حسینی میں زیر تفسیر آیت ۱ لکھا ہے کہ کتاب تیسیر میں شیخ محمد ابن اسلم طوسی سے نقل کیا ہے کہ ایک حدیث مجھے پہنچی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم فرماتے ہیں کہ ’’جو کچھ مجھ سے روایت کرو پہلے کتاب اللہ پر عرض کر لو۔ اگر وہ حدیث کتاب اللہ کے موافق ہو تو وہ حدیث میری طرف سے ہوگی ورنہ نہیں‘‘۔ سو میں نے اس حدیث کو کہ مَنْ تَرَکَ الصَّلٰوۃَ مُتَعَمِّدًا فَقَدْ کَفَرَ قرآن سے مطابق کرنا چاہا اور تیس سال اس بارہ میں فکر کرتا رہا مجھے یہ آیت ملی وَ ۲ اب چونکہ آپ نے فرمایا تھا کہ پہلوں میں سے کسی ایک کا نام لو جو قرآن کریم کو محک ٹھہراتا ہے۔ سو میں نے بحوالہ مذکورہ بالا ثابت کردیا ۔یا تو آپ کو ضدچھوڑ کر مان لینا چاہئے * اور صاف ظاہر ہے کہ چونکہ یہ تمام حدیثیں سلسلہ تعامل کی تقویت یاب نہیں