کرؔ نے والی آیت ہے جس سے صریح اورصاف طورپر صاف ثابت ہوتا ہے کہ اول توجہ مومن کی قرآن کریم کی طرف ہونی چاہئے پھر اگر اس توجہ کے بعد کسی حدیث یاقول من دونہ میں داخل دیکھے تو اس سے منہ پھیر لیوے۔ پھر آپ مجھ سے دریافت فرماتے ہیں بلکہ مجھے الزام دیتے ہیں کہ میں نے مسلم کی حدیث کو اس وجہ سے ضعیف ٹھہرایا ہے کہ بخاری نے اس کو چھوڑ دیا ہے اس کے جواب میں میری طرف سے یہ عرض ہے کہ موضوع ہونا کسی حدیث کا اور بات ہے اور اس کا ضعیف ہونا اور بات اور چونکہ دمشقی حدیث ایک ایسی حدیث ہے جو اس کے متعلق کی حدیثیں بخاری نے اپنی کتاب میں لکھی ہیں مگر اس طولانی حدیث کو چھوڑ دیا ہے اس لئے بوجہ تعلقات خاصہ اس حدیث کے جو دوسری حدیثوں سے ہیں یہ شک ہرگز نہیں ہوسکتا کہ بخاری صاحب اس حدیث کے مضمون سے بے خبر رہے ہیں بلکہ ذہن اسی بات کی طرف انتقال کرتا ہے کہ انہوں نے اپنی رائے میں اس کو ضعیف قرار دیا ہے۔ سو یہ میری طرف سے یہ ایک اجتہادی امر ہے اور میں ایسا ہی سمجھتا ہوں اس کو موضوع ہونے سے کچھ تعلق نہیں اور یہ بحث اصل بحث سے خارج ہے اس لئے میں اس میں طول دینا نہیں چاہتا آپ کا اختیار ہے جو چاہیں رائے قائم کریں پڑھنے والے خود میری اور آپ کی رائے میں فیصلہ کر لیں گے میرے پر اس امر کا کوئی الزام عاید نہیں ہوسکتا اور پھر آپ نے ازالہ اوہام کے صفحہ ۲۲۶ کا حوالہ دے کر ناحق ایک طول اپنی کلام کو دیا ہے میری اس تمام کلام کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ میں نے فیصلہ کے طور پر کسی حدیث مسلم یا بخاری کو موضوع قرار دے دیا ہے بلکہ میرا مطلب صرف تناقض کو ظاہر کرنا ہے اور یہ دکھلانا ہے کہ اگر تناقض کو دور نہ کیا جاوے تو یہ دونوں طور کی حدیثوں میں سے ایک کوموضوع ماننا پڑے گا۔ سو میرے اس بیان میں فیصلہ کے طور پر کوئی حکم قطعی نہیں کہ درحقیقت بلاریب فلاں حدیث موضوع ہے بلکہ میرا تو ابتدا سے مذہب یہی ہے کہ اگر کسی حدیث کی قرآن کریم سے کسی طور سے تطبیق نہ ہوسکے تو وہ حدیث موضوع ٹھہرے گی یا وہ حدیثیں جو سلسلہ تعامل کی متواترہ حدیثوں سے یا جو ایسی حدیثوں سے مخالف ہوں جو کمّی اور کَیفی طور پر اپنے ساتھ کثرت اور قوت رکھتی ہیں وہ موضوع ماننی پڑیں گی۔ اگر میں کسی حدیث کو مخالف قرآن ٹھہراؤں اور آپ اس کو موافق قرآن کر کے دکھلادیں تو میں اگر فرض کے طور پر اس کو موضوع ہی قرار دوں تب بھی عندالتطابق اپنے مذہب سے رجوع کر لوں گا۔ میری غرض تو صرف اس قدر ہے کہ حدیث کو قرآن کریم سے مطابق ہونا چاہئے۔ہاں اگر سلسلہ تعامل کے رو سے کسی حدیث کا مضمون قرآن کے کسی خاص حکم سے بظاہر منافی معلوم ہو تو اس کو بھی تسلیم کرسکتا ہوں کیونکہ سلسلہ تعامل حجت قوی ہے۔ میرے نزدیک بہتر ہے کہ آپ ان باتوں کی فکر کو جانے دیں اور اس ضروری بات پر توجہ کریں کہ کیا ایسی حالت میں جب کہ ایک حدیث صریح قرآن کریم کے مخالف معلوم ہو اور سلسلہ تعامل سے باہر ہو تو اس وقت کیا کرنا چاہئے؟ میں آپ پر اپنا اعتقاد بار بار ظاہر کرتا ہوں کہ میں صحیح بخاری اور مسلم کی حدیثوں کو یونہی بلاوجہ ضعیف اور موضوع قرار نہیں دے سکتا بلکہ میرا ان کی نسبت حسن ظن ہے ہاں جو حدیث قرآن کریم کے مخالف معلوم ہو اور کسی طرح اس سے مطابقت نہ کھا سکے میں اس کو ہرگز منجانب