عوامؔ کے سمجھانے کیلئے جو لایمسّہ کے گروہ میں داخل ہیں زیادہ تر وضاحت کے ساتھ بیان کردیا گیا ہے۔لیکن جو اس امت میں الّا المطھرون کا گروہ ہے۔ وہ قرآن کریم کی اپنی تفسیروں سے کامل طور پر فائدہ حاصل کرتا ہے لیکن اس کا زیادہ لکھنا چنداں ضروری نہیں ضروری امر تو صرف اسی قدر ہے کہ ہر یک حدیث مخالف ہونے کی حالت میں قرآن کریم پر پیش کرنی چاہئے۔چنانچہ یہ امر ایک مشکوٰۃ کی حدیثؔ سے بھی حسب منشاء ہمارے بخوبی طے ہوجاتا ہے اور وہ یہ ہے وعن الحارث الا عور قال مررت فی المسجد فاذا الناس یخوضون فی الاحادیث فدخلت علی علیؓ فاخبرتہ فقال اوقدفعلوھا قلت نعم قال اما انی سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم یقول الا انھا ستکون فتنۃ قلت ماالمخرج منھا یارسول اللہ قال کتاب اللہ فیہ خبر ماقبلکم وخبرمابعدکم وحکم ما بینکم ھوالفصل لیس بالھزل من ترکہ من جبار قصمہ اللہ ومن ابتغی الھدی فی غیرہ اضلہ اللہ وھوحبل اللہ المتین ۔۔۔ من قال بہ صدق ومن عمل بہ اجر ومن حکم بہ عدل ومن دعا الیہ ھدی الی صراط مستقیم۔ یعنی روایت ہے حارث اعور سے کہ میں مسجد میں جہاں لوگ بیٹھے تھے اور حدیثوں میں خوض کررہے تھے گزرا۔ سو میں یہ بات دیکھ کر کہ لوگ قرآن کو چھوڑ کر دوسری حدیثوں میں کیوں لگ گئے۔ علی کے پاس گیا اور اس کو جاکر یہ خبر دی۔ علیؓ نے مجھے کہا کہ کیا سچ مچ لوگ احادیث کے خوض میں مشغول ہیں اور قرآن کو چھوڑ بیٹھے ہیں۔ میں نے کہا ہاں۔ تب علیؓ نے مجھے کہا کہ یقیناً سمجھ کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے سنا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم فرماتے تھے کہ عنقریب ایک فتنہ ہوگا یعنی دینی امور میں لوگوں کو غلطیاں لگیں گی اور اختلاف میں پڑیں گے اور کچھ کا کچھ سمجھ بیٹھیں گے تب میں نے عرض کی کہ اس فتنہ سے کیونکر رہائی ہوگی تب آپ نے فرمایا کہ کتاب اللہ کے ذریعہ سے رہائی ہوگی اس میں تم سے پہلوں کی خبر موجود ہے اور آنے والے لوگوں کی بھی خبر ہے اور جو تم میں تنازعات پیدا ہوں ان کا اس میں فیصلہ موجود ہے وہ قول فصل ہے۔ ہزل نہیں۔ جو شخص اس کے غیر میں ہدایت ڈھونڈے گا اور اس کو حکم نہیں بنائے گا ۔خداتعالیٰ اس کو گمراہ کردے گا۔ وہ حبل اللّٰہ المتین ہے جس نے اس کے حوالہ سے کوئی بات کہی اس نے سچ کہا اور جس نے اس پر عمل کیا وہ ماجور ہے اور جس نے اس کے رو سے حکم کیا اس نے عدالت کی اور جس نے اس کی طرف بلایا اس نے راہ راست کی طرف بلایا۔ رواہ الترمذی والدّارمی۔ اب ظاہر ہے کہ اس حدیث میں صاف اور صریح طور پر خبر دی گئی ہے کہ اس وقت میں فتنہ ہوجائے گا اور لوگ طرح طرح کی ہدایت نکال لیں گے اور انواع واقسام کے اختلافات اس وقت میں باہم پڑجائیں گے تب اس فتنہ سےَ مخلصی پانے کیلئے قرآن کریم ہی دلیل ہوگا جو شخص اس کو محک