تعصب ہے ۔حق جوئی سے کچھ غرض نہیں اگر ان کو سمجھ ہو تو ایک بڑا نشان یہ بھی ہے کہ یہ لوگ دن رات اس نور الٰہی کے بجھانے کیلئے کوشش کررہے ہیں اور ہر قسم کے مکر عمل میں لارہے ہیں اور لوگوں کو بہکارہے ہیں اور ناخنوں تک حق کو مٹانے کیلئے زور لگا رہے ہیں کفر کے فتوے لکھ رہے ہیں اور آزار دہی کے تمام منصوبے گھڑ رہے ہیں یہاں تک کہ بٹالوی صاحب نے لوگوں کو برانگیختہ کیا ہے کہ گورنمنٹ کے سامنے جاکر سیاپا کریں غرض کوئی دقیقہ مکر اور فریب اور سعی اور کوشش کا اٹھا نہیں رکھا اور ایک جہان اپنے ساتھ کر لیا ہے اورؔ جیسا کہ میں نے بٹالوی صاحب کو ان تمام واقعات سے پہلے اس الہام کی خبر دی تھی کہ میں اکیلا ہوں اور خدا میرے ساتھ ہے۔ اب وہی صورت پیدا ہورہی ہے لوگوں نے یہاں تک دشمنی کی ہے کہ رشتہ ناطہ کو چھوڑ دیا ہے۔ باوجود ان تمام کار سازیوں کے جو کمال کو پہنچ گئی ہیں بالآخر ہم فتح پا جائیں تو اس سے بڑھ کر اور کیا نشان ہوگا۔ اور اگر کسی کی آنکھیں ہوں تو اس عاجز پر جو کچھ عنایات اللہ جلّ شانہٗ کی وارد ہورہی ہیں وہ سب نشان ہی ہیں۔ دیکھو خدائے تعالیٰ قرآن کریم میں صاف فرماتا ہے کہ جو میرے پر افترا کرے اس سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں اور میں جلد مفتری کو پکڑتا ہوں اور اس کو مہلت نہیں دیتا۔ لیکن اس عاجز کے دعویٰ مجدد اور مثیل مسیح ہونے اور دعویٰ ہم کلام الٰہی ہونے پر اب بفضلہ تعالیٰ گیارھواں برس جاتا ہے کیا یہ نشان نہیں ہے اگر خدائے تعالیٰ کی طرف سے یہ کاروبار نہ ہوتا تو کیونکر عشرہ کاملہ تک جو ایک حصہ عمر کا ہے ٹھہر سکتا تھا۔ پھرَ میں کہتا ہوں کہ کیا یہ نشان نہیں ہے کہ الہامی پیشگوئیوں کے بالمقابل آزمائش کیلئے کوئی اس عاجز کے سامنے نہیں آسکتا اور اگر آوے تو خدائے تعالیٰ اس کو سخت ذلیل کرے ایسا ہی صدہا تائیدات الہٰیہ شامل حال ہورہی ہیں۔ میں حضرت قدس کا باغ ہوں جو مجھے کاٹنے کا ارادہ کرے گا وہ خود کاٹا جائے گا مخالف رو سیاہ ہوگا اور منکر شرمسار یہ سب نشان ہیں