جس میں کسی دست بازی اور مکر اور فریب کی گنجائش نہیں۔ اب اگر کوئی صوفی پردہ نشین جو پردہ سے نکلنا نہیں چاہتا بقول بٹالوی صاحب اور میر عباس علی صاحب لدھیانوی کے بالمقابل نشان دکھلانے کو طیار ہے تو وہ بھی ایسی ہی دو پیشگوئیاں ان ہی ثبوتوں کے ساتھ اپنے حق میں کسی گذشتہ ولی کی طرف سے پیش کرے۔ ہم خدائے تعالیٰ کی قسم یاد کر کے وعدہ کرتے ہیں کہؔ اگر یہ ثابت ہوجائے گا کہ وہ بھی ایسے ہی نشان اور اسی درجہ ثبوت پر اور ایسی عظمت کے ساتھ باعتبار اپنے بعد زمانہ کے پائے گئے ہیں تو ہم سزائے موت اٹھانے کیلئے بھی طیّار ہیں۔ اور اس عاجز کی اپنی گذشتہ پیشگوئیاں تین ہزار کے قریب ہیں جو اکثر استجابت دعا کے بعد ظہور میں آئی ہیں۔ ان میں سے دلیپ سنگھ کے روکے جانے کی پیشگوئی ہے یعنی یہ کہ وہ اپنے قصد ارادہ پنجاب سے ناکام رہے گا۔ یہ پیشگوئی اجمالی طور پر اشتہار میں چھپ چکی ہے اور صدہا آدمیوں کو زبانی سنائی گئی۔ اسی طرح پنڈت دیانند کے فوت ہونے کی نسبت پیشگوئی اور شیخ مہر علی صاحب رئیس کے ابتلا اور پھر رہائی کی نسبت پیشگوئی*۔ بٹالوی صاحب کے مخالف ہوجانے کی نسبت پیشگوئی وغیرہ پیشگوئیاں جن کا مفصل ذکر موجب طول ہے۔ اگر فریق مخالف کے مولویوں میں کچھ ایمان ہے تو ان پیشگوئیوں کے بارے میں بھی ایک جلسہ مقرر کر کے اول ہم سے ثبوت لیں اور پھر اس کے موافق اپنی طرف سے پیشگوئیوں کا ثبوت دیں اور اگر بباعث اپنی تہی دستی کے ان دونوں طوروں مقابلہ سے عاجز آجائیں تو یہ بھی اختیار ہے کہ ایک سال کی مہلت پر آئندہ کیلئے آزمائش کر لیں کسی بڑے جھگڑے کی ضرورت نہیں ہر یک پیشگوئی جو کسی دعا کی قبولیت سے ظاہر ہو کسی اخبار میں بقید اس کے وقت ظہور کے چھپوادیں اور اس طرف سے بھی یہی کارروائی ہو سال گذرنے کے بعد معلوم ہوجائے گا کہ کون مؤیدمن اللہ اور کون مخذول اور مردود ہے۔ اگر یہ بھی نہ کریں تو سب لوگ یاد رکھیں کہ ان ُ ملاؤں کا ارادہ صرف حق پوشی اور بخل اور
*نوٹ : ۔ شیخ مہر علی صاحب کے ہاتھ میں قرآن شریف دے کر اس پیشگوئی کی نسبت ان کو قسم دینی چاہئے کیونکہ اگر کوئی زمانہ سازی یا مولویوں کے خوف سے انکار کرے تو قسم کے بعد تو ہرگز نہیں کرسکتا۔ اگر کرے تو حلف دروغی کے وبال سے جلد رسوا ہوجاتا ہے۔(یہ حاشیہ ایڈیشن ۱۸۹۲ء کے صفحہ ۳۶ پر ہے۔ ناشر)