اختیار نہیں اور نہ اس پر کسی کا حکم ہے طلب گارباید صبور و حمول۔ اگر ان میں سچی طلب ہے اور جہنم کا خوف ہے تو ایک سال کیا دور ہے اور نیز اس جگہ ایک سال سے مراد یہ نہیں کہ سال کے تمام دن پورے ہوجائیں بلکہ خدائے تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے اس میعاد کے اندر ہی فیصلہ کردے گا۔ اور قادر ہے کہ ابھی دو ہفتہ بھی نہ گذریں اور نشان ظاہر ہو۔ میں نے مقابلہ کیلئے اس لئے لکھا تھا کہ یہ لوگ نذیر حسین اور بٹالوی وغیرہ اس عاجز کو کھلے کھلے طور پر کافر اور مردود اور ملعون اور دجال اور ضال لکھتے ہیں۔ یہاں تک کہ ان کے نزدیک میرے پر اعتقاد رکھنے والا بھی کافر ہوجاتا ہے تو پھر اس صورت میں ضرور تھا کہ ایمانی نشانوں کی آزمائش ہو۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ مومنوں کو خدائے تعالیٰ خاص نشانوں سے ممتاز کردیتا ہے چنانچہ وہ ان آسمانی نشانوں کی رو سے اپنے غیر سے خواہ وہ کافر ہو یا منافق یا فاسق امتیاز کلی پیدا کر لیتے ہیں۔ سو اسی کی طرف ان لوگوں کو بلایا گیا تھا تا معلوم ہوجاوے کہ عنداللہ کون مومن اور کون موردسخط و غضب الٰہی ہے اگر ان حضرات کو اپنے ایمان پر کچھ بھروسا ہوتا تو مقابلہ سے فرار نہ کرتے لیکن آج تک کسی نے میدان میں آکر مقابل کا نام بھی نہیں لیا اور اخیر عذریہ پیش کیا کہ آپ دکھلادیں ہم قبول کریں گے اور اس کے ساتھ بھی یہ شرطیں لگادیں کہ تب قبول کریں گے کہ جب آسمان سے من وسلویٰ نازل ہو یا کوئی مجذوم اچھا ہوجائے یا ایک کانے کو دوسری آنکھ مل جائے یا لکڑی کا سانپؔ بن جائے یا جلتی آگ میں کود پڑیں اور بچ جائیں دیکھو صفحہ ۵۰ جواب فیصلہ آسمانی۔
ان تمام واہیات باتوں کا جواب یہ ہے کہ خدائے تعالیٰ ان سب باتوں پر قادر ہے اور اس کے علاوہ بے شماراور نشانوں پر بھی قادر ہے مگر اپنی مصلحت اور مرضی کے موافق کام کرتا ہے پہلے کفار نے یہی سوال کیا تھا۔ ۱ یعنی اگر یہ نبی سچا ہے تو موسیٰ وغیرہ انبیاء بنی اسرائیل کے نشانوں کی مانند نشان دکھاوے