اور مشرکین نے یہ بھی کہا کہ ہمارےُ مردے ہمارے لئے زندہ کر دیوے یا آسمان پر ہمارے روبرو چڑھ جاوے اور کتاب لاوے جس کو ہم ہاتھ میں لے کر دیکھ لیں وغیرہ وغیرہ مگر خدائے تعالیٰ نے محکوموں کی طرح ان کی پیروی نہیں کی اور وہی نشان دکھلائے جو اس کی مرضی تھی یہاں تک کہ بعض دفعہ نشان طلب کرنے والوں کو یہ بھی کہا گیا کہ کیا تمہارے لئے قرآن کا نشان کافی نہیں۔ اور یہ جواب نہایت ُ پر حکمت تھا کیونکہ ہر ایک عقل مند سمجھ سکتا ہے کہ نشان دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ کہ ان میں اور سحر و مکر و دست بازی وغیرہ میں تفرقہ و تمیز کرنا نہایت مشکل بلکہ محال ہوتا ہے اور دوسرے وہ نشان ہیں جو اِن مغشوش کاموں سے بکلّی تمییز رکھتے ہیں اور کوئی شائبہ یا شبہ سحر یا مکریادست بازی اور حیلہ گری کا ان میں نہیں پایا جاتا۔ سو اسی دوسری قسم میں سے قرآن کریم کا معجزہ ہے جو بکلّی روشن اور ہر یک پہلو اور ہر ایک طور سے لعل تاباں کی طرح چمک رہا ہے۔ لکڑی کا سانپ بنانا کوئی ممیز نشان نہیں ہے۔ حضرت موسیٰ نے بھی سانپ بنایا اور ساحروں نے بھی اور اب بھی بنائے جاتے ہیں مگر اب تک معلوم نہیں ہوا کہ سحر کے سانپ اور معجزہ کے سانپ میں مابہ الامتیاز کیا ہے۔ اسی طرح سلب امراض میں عمل الترب میں مشق کرنے والے خواہ وہ عیسائی ہیں یا ہندو یا یہودی یا مسلمان یا دہریہ اکثر کمال رکھتے ہیں اور البتہ بعض اوقات جذام وغیرہ امراض مزمنہ کو بمشیت الٰہی اسی عمل کی تاثیر سے دور کردیتے ہیں سو صرف شفاء امراض پر حصر رکھنا ایک دھوکہ ہے جب تک اس کے ساتھ پیشگوئی شامل نہ ہو اسی طرح آج کل بعض تماشا کرنے والے آگ میں بھی کودتے ہیں اور اس کے اثر سے بچ جاتے ہیں سو کیا اس قسم کے تماشوں سے کوئی حقیقت ثابت ہوسکتی ہے۔ من سلویٰ کا تماشاشاید آپ نے کبھی دیکھا نہیں ایک ایک پیسہ لے کر کشمش وغیرہ برسا دیتے ہیں اگر آپ آج کل کے یورپ کے تماشائیوں کو دیکھیںؔ جو ایک مخفی فریب کی راہ سے سرکاٹ کر بھی پیوند کردیتے ہیں تو شاید آپ ان کے دست بیع ہوجائیں۔ مجھے یاد ہے کہ جالندھر کے مقام میں ایک شعبدہ باز تھا مہتاب علی نام نے جو آخر توبہ کر کے