اللہ جلّ شانہٗسے ہم کلام ہوتے ہیں اور نبوت تامہ کی بعض صفات ظلّی طور پر اپنے اندر رکھتے ہیں اور بلحاظ بعض وجوہ شان نبوت کے رنگ سے رنگین کئے جاتے ہیں اور ان میں سے میں ایک ہوں۔ لیکن ان بزرگوں نے میرے ان بیانات کو نہ سمجھاخاص کر نذیر حسین پر بہت افسوس ہے جس نے پیرانہ سالی میں اپنی تمام معلومات کو خاک میں ملا دیا۔ غرض میں نے جب دیکھا کہ یہ لوگ قرآن اور حدیث کو چھوڑتے ہیں اور کلام الٰہی کے الٹے معنے کرتے ہیں تب میں نے ان سے بکلّی نومید ہو کر خدائے تعالیٰ سے آسمانی فیصلہ کی درخواست کی اور جیسا کہ خدائے تعالیٰ نے میرے دل پر القا کیا وہ صورت فیصلہ کیلئے میں نے پیش کردی۔ اگر ان لوگوں کے دل میں انصاف اور حق طلبی ہوتی تو اس کے قبول کرنے میں توقف نہ کرتے یہ درخواست کس قدر فضول ہے کہ ایک سال کے عرصہ کو جو ایک الہامی امر ہے خودبخود بدلا دیا جائے اور ایک یا دو ہفتے بجائے اس کے مقرر کئے جائیں یہ لوگ نہیں جانتے کہ یہ میعاد منجانب اللہ ہے اور انسان تو اپنے اختیار سے کبھی جرأت ہی نہیں کرسکتا کہ خوارق کے دکھلانے کیلئے کوئی میعاد مقرر کرسکے انبیاء نے بھی ایسا نہیں کیا اور اگر کوئی میعاد اپنی طرف سے مقرر کیؔ تو عتاب ہوا تو پھر کیونکر ایک سال ایک ہفتہ سے بدل سکتا ہے میں سوچ میں ہوں کہ ان لوگوں کے دعاوی علم اور معرفت کہاں گئے۔ کیا یہ نہیں جانتے کہ میعادوں کا مقرر کرنا انسان کا کام نہیں اگر ان میں سے کسی ملہم کو دو ہفتہ میں کرامت دکھلانے کا الہام ہوگیا ہے تو بہت اچھا وہی اپنی کرامت ظاہر کرے میں اس کو قبول کروں گا۔ اور اگر میں اس کے مقابلہ سے عاجز رہا تو وہ سچے ٹھہریں گے۔ لیکن یاد رہے کہ یہ تمام دروغ گوئی اور فضول گوئی ہے اصل بات یہ ہے کہ خدائے تعالیٰ نے ان کے دلوں کو سخت کردیا اور ان کی آنکھوں پر پردے ڈال دیئے ہیں اس لئے وہ نہ دیکھ سکتے ہیں اور نہ سمجھ سکتے ہیں۔ منصفو! سوچو کہ جو شخص ملہم ہوتا ہے کیا وہ اپنی طرف سے کچھ کہہ سکتا ہے پھر کیونکر میں اس میعاد کو بدل سکتا ہوں جس پر خدائے تعالیٰ نے مجھ کو ان کے مقابل پر اطلاع دی ہاں اگر وہ خود بدل دے تو اس کا اختیار ہے انسان کا