بٹالوی صاحب کا ہمارے رسالہ آسمانی فیصلہ پر جرح اور اس کا جواب اور نیز آسمانی نشانوں کے پیش کرنے سے اتمام ُ حجت شیخ بٹالوی نے جو رسالہ جواب فیصلہ آسمانی میں لکھا ہے اس کے صفحہ ۲۷و۵۰و۵۱و۵۲ وغیرہ میں بہت کچھ ہاتھ پیر مارے ہیں تا کسی طرح لوگوں کی نظر میں ہماری اس درخواست مقابلہ کو جو حقیقی ایمان کی آزمائش کیلئے میاں نذیر حسین دہلوی اور ان کے ہم خیال لوگوں کی خدت میں پیش کی گئی تھی خلاف انصاف ثابت کر کے دکھلاویں مگر ہر ایک باخبر اور منصف مزاج سمجھ سکتا ہے کہ انہوں نے بجائے اس بات کے کہ ہماری حجت کو اپنے اور اپنے شیخ دہلوی کے سر پر سے دور کرسکتے اور بھیؔ زیادہ اپنی تحریر سے اس بات کو ثابت کردیا کہ ان کو سچائی کی طرف قدم مارنا اور اپنے شیطانی اوہام سے نجات پا جانا کسی طرح منظور ہی نہیں۔ تمام لوگ جانتے ہیں اور شیخ جی کے کفر نامہ کو پڑھ کر ہریک شخص معلوم کرسکتا ہے کہ ان حضرت اور نذیر حسین نے بڑے اصرار اور قطع اور یقین سے اس عاجز کی نسبت کفر اور بے ایمانی کا فتویٰ لکھا ہے اور دجال اور ضال اور کافر نام رکھا ہے۔ ان الزامات کی نسبت اگرچہ میں نے بار بار بیان کیا اور اپنی کتابوں کا مطلب سنایا کہ کوئی کلمہ کفراِن میں نہیں ہے نہ مجھے دعویٰ نبوت و خروج از امت اور نہ میں منکر معجزات اور ملائک اور نہ لیلۃ القدر سے انکاری ہوں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے خاتم النبییّن ہونے کا قائل اور یقین کامل سے جانتا ہوں اور اس بات پر محکم ایمان رکھتا ہوں کہ ہمارے نبی صلعم خاتم الانبیاء ہیں اور آنجناب کے بعد اس امت کیلئے کوئی نبی نہیں آئے گا نیا ہو یا پرانا ہو اور قرآن کریم کا ایک ُ شعشہُ یا نقطہ منسوخ نہیں ہوگا۔ ہاںُ محدّث آئیں گے جو