فیہؔ کل ذکر لیکون بعض الذکر تفسیرا لبعضہ تقشعر منہ جلود الذین یخشون ربھم یعنی یستولی جلالہ وھیبتہ علی قلوب العشاق لتقشعر جلودھم من کمال الخشیۃ والخوف یجاھدون فی طاعۃ اللہ لیلا ونھارا بتحریک تاثیرات جلالیۃ و تنبیہات قھریۃ من القرآن ثم یبدل اللہ حالتھم من التألم الی التلذّذ فیصیر الطاعۃ جزو طبیعتھم و خاصۃ فطرتھم فتلین جلودھم و قلوبھم الی ذکر اللہ۔ یعنی لیسیل الذکر فی قلوبھم کسیلان الماء ویصدرمنھم کل امر فی طاعۃ اللہ بکمال السہولۃ والصفاء لیس فیہ ثقل ولا تکلف ولا ضیق فی صدورھم بل یتلذذون بامتثال امرالھھم ویجدون لذۃ وحلاوۃ فی طاعۃ مولاھم وھذا ھوالمنتھی الذی ینتھی الیہ امر العابدین والمطیعین فیبدل اللہ آلامھم باللذات*اب ان تمام محامد سے جو قرآن کریم اپنی نسبت بیان فرماتا ہے صاف اور صریح طور پر ثابت ہوتا ہے کہ وہ اپنے مقاصد عظیمہ کی آپ تفسیر فرماتا ہے اور اس کی بعض آیات بعض کی تفسیر واقع ہیں یہ نہیں کہ وہ اپنی تفسیر میں بھی حدیثوں کا محتاج ہے۔ بلکہ صرف ایسے امور جو سلسلۂ تعامل کے محتاج تھے وہ اسی سلسلہ کے حوالہ کردیئے گئے ہیں اور ماسوا ان امور کے جس قدر امور تھے ان کی تفسیر بھی قرآن کریم میں موجود ہے۔ ہاں باوجود اس تفسیر کے حدیثوں کی رو سے بھی *۔ ترجمہ یعنی یہ کتاب متشابہ ہے جس کی آیتیں اور مضامین ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں ان میں کوئی تناقض اور اختلاف نہیں۔ ہر ذکر اور وعظ اس میں دوہرا دوہرا کر بیان کی گئی ہے جس سے غرض یہ ہے کہ ایک مقام کا ذکر دوسرے مقام کے ذکر کی تفسیر ہوجائے۔ اس کے پڑھنے سے ان لوگوں کی کھالوں پر جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ یعنی اس کا جلال اور اس کی ہیبت عاشقوں کے دلوں پر غالب ہوجاتی ہے اس لئے کہ ان کی کھالوں پر کمال خوف اور دہشت سے رونگٹے کھڑے ہوجائیں وہ قرآن کی قہری تنبیہات اور جلالی تاثیرات کی تحریک سے رات دن اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں بہ دل و جان کوشش کرتے ہیں پھر ان کی یہ حالت ہوجاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی اس حالت کو جو پہلے دکھ درد کی حالت ہوتی ہے لذت و سرور سے بدل ڈالتا ہے۔ چنانچہ اس وقت طاعت الٰہی ان کی جزو بدن اور خاصہ فطرت ہوجاتی ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ کے ذکر سے ان کے دلوں اور بدنوں پر رقت اورلینت طاری ہوتی ہے یعنی ذکر ان کے دلوں میں پانی کی طرح بہنا شروع ہوجاتا ہے اور ہر بات طاعت الٰہی کی ان لوگوں سے نہایت سہولت اور صفائی سے صادر ہوتی ہے نہ یہ کہ اس میں کوئی بوجھ ہو یا ان کے سینوں میں اس سے کوئی تنگی واقع ہو بلکہ وہ تو اپنے معبود کے امر کی فرمانبرداری میں لذت حاصل کرتے ہیں اور اپنے مولیٰ کی طاعت میں انہیں حلاوت آتی ہے پس عابدوں اور مطیعوں کی غایت کار اور معراج یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے دکھوں کو لذتوں سے بدل ڈالے۔ ایڈیٹر۔