پیشگوئیاں گلاب شاہ کی پوری ہوتی دیکھیں تھیں لیکن اس پیشگوئی کے باب میں کہ آنے والا عیسیٰ قادیان میں ہے اور اس کا نام غلام احمد ہے ہمیشہ میں گلاب شاہ کا مخالف ہی رہا جب تک کہ اس کو پورے ہوتے دیکھ لیا اور اگرچہ میں ان کو بزرگ اور باخدا جانتا تھا مگر میں اس پیشگوئی کو بوجہ اس کے کہ وہ جیسا کہ میں خیال کرتا تھا اہل سنت والجماؔ عت کے عقیدہ کے مخالف تھی کسی طرح سے قبول نہیں کرسکتا تھا اس لئے پہلے دن جب میں نے ان کے منہ سے یہ بات سنی تو بڑے جوش و خروش سے میں نے ان کا جواب دیا لیکن پھر میں نے بلحاظ ادب ظاہری تکرار چھوڑ دیا اور دل میں مخالف رہا کیونکہ اور بھائیوں کی طرح بڑی مضبوطی سے میرا یہ اعتقاد تھا کہ عیسیٰ آسمان سے اترے گا اور زندہ آسمان پر بیٹھا ہے مرا نہیں ہے اور انہوں نے مجھے یہ بھی کہا تھا کہ جب عیسیٰ لدھانہ میں آئے گا تو ایک سخت کال پڑے گا جیسا کہ میں نے بچشم خود دیکھ لیا کہ جب اس دعویٰ کے بعد مرزا صاحب لدھانہ میں آئے تو حقیقت میں سخت کال لدھیانہ میں پڑا۔ غرض اس بزرگ نے قریباً تیس یا اکتیس برس پہلے مجھ کو وہ خبریں دیں جو آج ظہور میں آئیں اور میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ وہ سب باتیں پوری ہوگئیں جو گلاب شاہ نے آج سے تیس یا اکتیس برس پہلے مجھ کو کہی تھیں۔ میں اس بات کا لکھنا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ مجھے بارہا اور بتکرار اس بات کا مشاہدہ ہوچکا ہے کہ یہ بزرگ صاحب خوارق و کرامات تھا۔َ میں نے بچشم خود دیکھا کہ ایک دفعہ ایک جنگل میں موضع رام پور کے قریب انہوں نے نشان کیا کہ اس جگہ دریا چلے گا اور دریا چلنے کی کوئی جگہ نہ تھی اس لئے ہم نے انکار کیا مگر ایک مدت کے بعد اسی جگہ نہر چلی جہاں نشان لگایا تھا۔ ایک جگہ معمار ایک کنواں بنا رہے تھے اور طیار ہوچکا تھا کچھ تھوڑا باقی تھا۔ گلاب شاہ کی اس پر نظر پڑی کہا ناحق اس کنوئیں کو بناتے ہو یہ تو تمام نہیں ہوگا اور بظاہر یہ ان کی بات خلاف عقل تھی کیونکہ کنواں تو بن چکا تھا کچھ تھوڑا سا باقی تھا مگر ان کا کہنا سچ ہوگیا اور اسی اثنا میں وہ کنواں نیچے بیٹھ گیا اور اس کا نشان نہ رہا۔