میرے پاس بیان کیا کہ عیسیٰ جوان ہوگیا ہے اور لدھیانہ میں آوے گا اور قرآن کی غلطیاں نکالے گا اور فیصلہ قرآن کے ساتھ کرے گا اور پھر فرمایا کہ فیصلہ قرآن پر کرے گا اور مولوی انکار کریں گے اور پھر فرمایا کہ مولوی لوگ سخت انکار کریں گےَ میں نے ان سے پوچھا کہ قرآن تو خدائے تعالیٰ کا کلام ہے کیا اس میں بھی غلطیاں ہیں۔ انہوں نے جواب دیا کہ تفسیروں پر تفسیریں بن گئیں اور شاعری زبان پھیل گئی اس لئے غلطیاں پڑ گئیں(یعنیؔ مبالغہ پر مبالغہ کر کے حقیقتوں کو چھپایا گیا جیسے شاعر چھپاتے ہیں) عیسیٰ جب آئے گا تو ان سب غلطیوں کو نکالے گا اور فیصلہ قرآن سے کرے گا پھر کہا کہ فیصلہ قران پر کرے گا اس پر میں نے کہا کہ مولوی تو قرآن کے وارث ہیں وہ کیوں انکار کریں گے تب انہوں نے جواب دیا کہ مولوی سخت انکار کریں گے پھر میں نے بات کو دوہرا کر کہا کہ مولوی کیوں انکار کریں گے وہ تو وارثِ قرآن ہیں اس پر وہ بہت طیش میںآکر اور ناراض ہو کر بولے کہ تو دیکھے گا کہ اس وقت مولویوں کا کیاحال ہوگا وہ سخت انکار کریں گے۔ پھر میں نے ان سے پوچھا کہ عیسیٰ جوان تو ہوگیا مگر وہ کہاں ہے انہوں نے کہا کہ بیچ قادیان کے(یعنی قادیان میں) تب میں نے کہا کہ قادیان تو لدھیانہ سے تین کوس کے فاصلہ پر ہے اس جگہ عیسیٰ کہاں ہیں اس وقت انہوں نے اس کا جواب نہ دیا مگر دوسرے وقت میں انہوں نے اس بات کا جواب دے دیا جس کو بباعث امتداد مدت کے میں پہلے لکھانہ سکا اب یاد آیا کہ آخر میں کئی دفعہ انہوں نے فرمایا کہ وہ قادیان بٹالہ کے پاس ہے اس جگہ عیسیٰ ہے اور جب انہوں نے یہ فرمایا تھا کہ عیسیٰ قادیان میں ہے اور اب جوان ہوگیا تو میں نے انکار کی راہ سے ان کو کہا کہ عیسیٰ مریم کا بیٹا تو آسمان پر زندہ موجود ہے اور خانہ کعبہ پر اترے گا یہ کون عیسیٰ ہے جو قادیان میں ہے اور جوان ہوگیا۔ اس کے جواب میں وہ بڑی نرمی اور سلوک کے ساتھ بولے اور فرمایا کہ وہ عیسیٰ بیٹا مریم کا جو نبی تھا مر گیا ہے وہ پھر نہیں آئے گا اور میں نے اچھی طرح تحقیق کیا ہے کہ عیسیٰ بیٹا مریم کا مر گیا ہے وہ پھر نہیں آئے گا اللہ نے مجھے بادشاہ کہا ہے میں سچ کہتا ہوں جھوٹ نہیں کہتا۔ پھر انہوں نے تین مرتبہ خودبخود کہا کہ وہ عیسیٰ جو آنے والا ہے اس کا نام غلام احمد ہے اور میں نے اگرچہ بہت سی