ایک دفعہ انہوں نے علی بخش نام ایک شخص کو بلایا کہ کوٹھہ پر سے جہاں وہ بیٹھا تھا دوسری طرف چلا آ۔ اور علی بخش اس کوٹھہ پرسے الگ ہونے سے سستی کرتا تھا آخر انہوں نے جھڑک کر اس کو کوٹھہ پر سے اٹھایا۔ پس اسی دم جو علی بخش کوٹھہ پر سے الگ ہوا کوٹھہ بیک دفعہ گر پڑا۔ ایک دفعہ مجھے پوچھنے لگے کہ کیا تیرے باپ کا ایک دانت بھی ٹوٹا ہوا تھا میں نے کہا کہ ہاں تب انہوں نے فرماؔ یا کہ وہ بہشت میں داخل ہوگیا۔ میرا باپ مدت سے فوت ہوچکا تھا اور ان کو اس کے دانت کی کچھ بھی خبر نہیں تھی کیونکہ وہ اس زمانہ کے بعد ہمارے گاؤں میں آئے تھے سو دانت ٹوٹنے کی خبر انہوں نے الہام کے رُو سے دی اور عالم کشف سے اس کے بہشتی ہونے کی مجھے بشارت دی۔ یہ بھی بیان کے لائق ہے کہ گلاب شاہ ایک مرد باخدا پاک مذہب موحد تھا اور مجذوب ہونے کی حالت میں توحید کا چشمہ ان کی زبان پر جاری تھا میں نے دین اسلام کی راہ اور توحید کا طریقہ انہیں سے سیکھا اور انہیں کی تعلیم کے موافق ذکر الٰہی کرتا رہا یہاں تک کہ تھوڑے دنوں میں میرا قلب جاری ہوگیا اور عبادت کی لذت آنے لگی اور ایسا ہوگیا کہ جیسا ایک مرا ہوا زندہ ہو جاتا ہے سچی خوابیں آنے لگیں جو خواب دیکھتا وہ پوری ہوجاتی اور الہامات صحیحہ مجھ کو ہونے لگے۔ یہ سب کچھ ان کی توجہ کی برکت تھی وہ بارہا فرمایا کرتے تھے کہ ہر ایک برکت اللہ اور رسول کی پیروی میں ہے اور چار مذہب اور چار سلسلے جو لوگوں نے مقرر کررکھے ہیں ان کو دراصل کچھ چیز نہیں سمجھنا چاہئے اور ہمیشہ اور ہرحال میں اپنا مدعا یہ رکھنا چاہئے کہ واقعی طور پر اللہ اور رسول کی پیروی ہوجائے۔ جو بات اللہ اور رسول سے ثابت نہ ہو وہ صحیح نہیں ہے گو اس کا کوئی قائل ہو اور فرمایا کرتے تھے کہ جیسے ایک شاگرد کہے کہ میں اپنے ہی استاد کا کہا مانوں گا نہ کسی اور کا۔ یہی چار مذہب کے ان مقلدوں کی مثال ہے جو اتباع نبوی سے اپنے اَئمہ کی متابعت مقدم سمجھتے ہیں۔ حق خالص پر وہ لوگ ہیں جو قرآن اور حدیث پر غور کرتے ہیں اور کلام اللہ سے سچائی کو ڈھونڈتے ہیں اور پھر اس پر عمل کرتے ہیں چار مذہب کا خواہ نخواہ فرمودہ خدا کا مخالف بن کر بھی پیرو بن جانا یا چار سلسلوں میں ہی