کون ہے تو آج میں بھی اپنے بھائیوں کی طرح میرزا غلام احمد قادیانی کا ایک اشد مخالف ہوتا اگرچہ میں قتل بھی کیا جاتا تاہم بالکل غیر ممکن اور محال تھا کہ میں میرزا صاحب کو مسیحِ موعود قبول کر کے اپنے اس محکم عقیدہ کو چھوڑ دیتا جس کو میں اپنے خیال میں اہل سنت والجماعت کا مذہب اور سلف صالح کا اعتقاد اور اپنے علماء کا عقیدہ مسلمہ سمجھتا تھا۔ لیکن یہ خدائے تعالیٰ کی میرؔ ے حق میں ایک رحمت تھی جو اس نے اس واقعہ سے تیس برس پہلے ایک باخدا مرد اور بیابان کے پھرنے والے ایک مجذوب کی زبان سے وہ باتیں میرے کانوں تک پہنچادیں جو اب میرے لئے ایک عظیم الشان نشان ہوگئیں اور ان پیشگوئیوں نے میرے دل کو مرزا صاحب کی سچائی پر ایسا قائم کردیا کہ اگر اب کوئی ٹکڑہ ٹکڑہ بھی کرے تو مجھے اس راہ میں اپنی جان کی بھی کچھ پرواہ نہیں جیسے روز روشن جب نکلتا ہے تو کسی کو اس میں کچھ شک نہیں رہتا ایسا ہی مجھ پر ثابت ہوگیا ہے کہ میرزا غلام احمد قادیانی وہی مسیح موعود ہیں جن کے آنے کا وعدہ تھا جن کا کتابوں میں عیسیٰ نام رکھا گیا ہے اور میرا دل اس یقین سے بھرا ہوا ہے کہ عیسیٰ نبی علیہ السلام مر گیا اور پھر نہیں آئے گا۔ جس کے آنے کی رسول کریمؐ نے بشارت دی تھی وہ یہی امام ہے جو اسی امت سے پیدا ہوا۔ سو میں نے چاہا کہ اس سچائی کو اوروں پر بھی ظاہر کروں۔ اور ناواقف لوگوں کو حق پر قائم کرنے کیلئے مدد دوں اور خدا میرے دل کو دیکھ رہا ہے کہ میں سچا ہوں اور اگر میں سچا نہیں تو خدا میرے پر تباہی ڈالے۔ پس اے بھائیو ڈرو اور ناحق کی بدظنی سے اپنے بھائی کی گواہی رد مت کرو کہ وہ دن ہم سب کیلئے قریب ہے جس سے ہم کسی طرف بھاگ نہیں سکتے۔ وہ گواہی جو میرے پاس ہے یہ ہے کہ میرے گاؤں جمال پور میں جو ضلع لودھیانہ میں واقع ہے ایک بزرگ مجذوب باخدا آدمی تھے جن کا نام گلاب شاہ تھا میں ان کی صحبت میں اکثر رہتا اور ان سے فیض حاصل کرتا تھا اور اگرچہ میں مسلمانوں کے گھر میں پیدا ہوا تھا اور مسلمان کہلاتا تھا لیکن میں اس امر کے اظہار سے رہ نہیں سکتا کہ درحقیقت انہوں نے ہی مجھے طریق اسلام سکھلایا اور توحید کی صاف اور پاک راہ پر میرا قدم جمایا۔ اس بزرگ درویش نے ایک دفعہ