اور نہ میں نے بلکہ خدائے تعالیٰ نے یاد رکھنے میں مجھ کو مدد دی ہے تا ایک گواہی جو میرے پاس تھی اپنے وقت پر ادا ہوجائے ہر چند کہ میں ابتدا سے خوب جانتا ہوں کہ اس گواہی کے ادا کرنے سے میں اپنی عزیز قوم کو سخت ناراض کروں گا اور وہؔ کفر جو علماء کے دعوت خانہ سے تقسیم ہورہا ہے اس کا ایک وافر حصہ مجھ کو بھی ملے گا اور اپنے بھائیوں کی میل ملاقات سے ترک کیا جاؤں گا اور سب وشتم اور لعن و طعن کا نشانہ بنوں گا لیکن ساتھ اس کے مجھے اس بات پر بھی یقین کلی ہے کہ اگر اس دینی گواہی کو اس ُ پر فتنہ کے وقت میں پوشیدہ رکھوں گا تو اپنے رب کریم کو ناراض کردوں گا اور کبیرہ گناہ کا مرتکب ہوجاؤں گا اور اس جلتی ہوئی آگ میں ڈالا جاؤں گا جس کا کچھ انتہا نہیں۔ سو میں نے دونوں طور کے نقصانوں کو جانچا آخر یہ نقصان مجھ کو خفیف اور ہیچ معلوم ہوا کہ میری سچی گواہی کی وجہ سے میری برادری کے معزز لوگ مجھ کو چھوڑ دیں گے یا میں مولویوں کے فتووں میں کافر کافر کر کے لکھا جاؤں گا اب میں بڈھا ہوں اور قریب موت کمال بدنصیبی ہوگی کہ اس عمر تک پہنچ کر پھر میں غیر اللہ سے ڈروں مجھ کو اس کفر اور معصیت سے خوف آتا ہے جو خدائے تعالیٰ کے نزدیک ہے اور میں جہنم کی آگ کی کسی طرح برداشت نہیں کرسکتا۔ پھر میں کیوں چار دن کی زندگی کیلئے مولویوں یا برادری کی خاطر روز حشر میں اپنا مونہہ سیاہ کروں خدا ئے تعالیٰ مجھے ایمان پر موت دے میں کبھی جھوٹ نہیں بولوں گا اگر وہ راضی ہو تو پھر دنیا کی ہر ایک رسوائی درحقیقت ایک عزت ہے اور ہر ایک درد ایک لذت۔ بھائیوں کی جدائی سے بھی اپنے اللہ کی راہ میں مجھے اندیشہ نہیں میری اب آخری عمر ہے۔ بہت سے عزیزوں کو موت نے مجھ سے جدا کردیا اور میں بھی جلد اس مسافر خانہ سے سفر کر کے باقی ماندہ عزیزوں سے جدا ہونے والا ہوں پھر اگر خدا ئے تعالیٰ کیلئے اور اس کی راہ میں اور اس کے راضی کرنے کیلئے جدا ئی ہو تو زہے قسمت کہ ایسا ثواب مجھ کو حاصل ہو۔ بھائیو! یقیناً سمجھو کہ اگر یہ گواہی میرے پاس نہ ہوتی اور اس وقت سے تیس یا اکتیس برس پہلے اگر ایک ربّانی مجذوب میرے پر یہ راز نہ کھولتا کہ آنے والا عیسیٰ موعود