کیا گیا ہے جس کے جہاد روحانی جہاد ہیں اور جو دجالیت تامہ کے پھیلنے کی وجہ سے عیسیٰ کی صفت پر نازل ہوا ہے حجج الکرامہ کے صفحہ ۳۸۷ میں لکھا گیا ہے کہ حافظ ابن القیم منار میں فرماتے ہیں کہ مہدی کے بارے میں چار قول ہیں ان میں سے ایک یہ قول ہے کہ مہدی مسیح ابن مریم ہے میں کہتا ہوں کہ جب کہ دلائل کاملہ سے ثابت ہوگیا کہ اصل مسیح عیسیٰ بن مریم فوت ہوگیا ہے اور مسیح موعود اس کا ظل ہے اور اس کا نمونہ ہے جو بوجہ پھیلنے دجالیت کے اس نام پر مبعوث ہوا تو پھر ہر ایک شخص سمجھ سکتا ہے کہ وہ اپنے وقت کا مہدی بھی ہے اور عیسیٰ بھی۔ کیونکہ جب کہ ہر ایک صالح ہدایت یافتہ کو مہدی کہہ سکتے ہیں تو کیا وہ شخص جس نے تزکیہ کاملہ کی برکت سے روح فقط کا مرتبہ پا کر عیسیٰ اور روح اللہ کا نام حاصل کیا ہے وہ مہدی کے نام سے موسوم نہیں ہوسکتا اور مجھے سخت تعجب ہے کہ ہمارے علماء عیسیٰ کے لفظ سے کیوں چڑتے ہیں اسلام کی کتابوں میں تو ایسی چیزوں کا نام بھی عیسیٰ رکھا گیا ہے جو سخت مکروہ ہیں۔ چنانچہ برہان قاطع میں حرف عین میں لکھا ہے کہ عیسیٰ دہقان کنایہ شراب انگوری سے ہے اور عیسیٰ نوماہہ اس خوشہ انگور کا نام ہے جس سے شراب بنایا جائے اور شراب انگوری کو بھی عیسیٰ نوماہہ کہتے ہیں۔ اب غضب کی بات ہے کہ مولوی لوگ شراب کا نام تو عیسیٰ رکھیں اور تالیفات میں بے مہابا اس کا ذکر کریں اور ایک پلید چیز کی ایک پاک کے ساتھ اِسمی مشارکت جائز قرار دیں اور جس شخص کو اللہ جلّ شانہٗ اپنی قدرت اور فضل خاص سے دجّالیت موجودہ کے مقابل عیسیٰ کے نام سے موسوم کرے وہ ان کی نظر میں کافر ہو۔