یہ ہے کہ اگر گورنمنٹ کی تلوار سے خوف نہ ہوتا تو اس کو قتل کر ڈالتے تلوار کو مہدی کی طرف منسوب کرنا حدیث کے اصل منشاء میں تحریف ہے اگر اس مہدی کے ہاتھ میں تلوار ہوتی تو پھر کیونکر یہ بزدل علما جِیفہ خوار دنیا کے اس کو ملعون اور کافر اور دجال کہہ سکتے۔ کافروں کی تو سو سو خوشامد کر کے اپنا دین برباد کر لیں تو پھر یہ نامرد گروہ تلوار کی چمک دیکھ کر ایک مومن کو کیونکر کافر اور دجال کہہ سکیں اور نیز اس جگہ صدیق حسن صاحب اپنی طرف سے یہ زیادت لگا گئے ہیں کہ اس امام موعود کے منکر اور مکفّر حنفی وغیرہ مقلّدین ہوں گے ہم لوگ نہیں ہوں گے۔ حالانکہ یہی موحدین اول المکفرین ہیں اور مقلدین ان کے اتباع سے ہیں اور صدیق حسن صاحب کی یہ بڑی غلط فہمی ہے کہ اس امام موعود سے محمد بن عبداللہ مہدی مراد ہیں کیونکہ وہ تو بقول ان کے خونی مہدی صاحب سیف و سنان ہیں اور ماسوا اس کے ان کیلئے بقول ان علماء کے آسمان سے آواز آئے گی اور بڑے بڑے خوارق اُس سے ظہور میں آئیں گے اور حضرت مسیح آسمان سے اتر کر اسکے پیروؤں اور مبایعین میں داخل ہوں گے اور مکفرین کی سزا کیلئے ان کے پاس تلوار ہوگی- پھر مولویوں کی خواہ وہ موحّد ہوں یا مقلّد کیا مجال ہے کہ ان کو ضال اور بے ایمان اور کافر اور دجال کہہ سکیں یہ پیشگوئی تو اس غریب مہدی کیلئے ہے جس کی بادشاہی اس دنیا کی بادشاہی نہیں اور جس کو تلواروں سے کچھ غرض نہیں۔ خونی مہدی جب کہ ادنیٰ ادنیٰ بدعتوں پر بقول صدیق حسن خاں صاحب کے لوگوں کو قتل کردے گا تو پھر مولوی اس کو کافر اور دجال اور بے ایمان کہہ کر اور اسکے کفر کی نسبت فتوے لکھ کر کیونکر اس کے ہاتھ سے بچیں گے اور کیا ان مولویوں کا حوصلہ ہے کہ ایک زبردست بادشاہ کوؔ جس کی تلوار سے خون چکے کافر اور دجال کہہ سکیں اور اس کی نسبت فتویٰ لکھ سکیں ۔دراصل بات یہ ہے کہ احادیث میں کئی قسم کے مہدیوں کی طرف اشارہ ہے۔ اور مولویوں نے تمام احادیث کو ایک ہی جگہ خلط ملط کر کے گڑ بڑ ڈال دیا ہے اور اختلاط روایات کی وجہ سے اور نیز قلّت تدبّر کے باعث سے ان پر امر مشتبہ ہوگیا ہے ورنہ چودھویں صدی کا مہدی جس کا نام سلطان المشرق بھی ہے خصوصیت کے ساتھ احادیث میں بیان