میرؔ ے نزدیک قطعی الثبوت ہیں۔ اگر میں ایسا کہوں تو خدا تعالیٰ کو کیا جواب دوں۔ ہاں اگر کوئی ایسی حدیث قرآن کریم سے مخالف نہ ہو تو پھر میں اس کی صحت کاملہ کی نسبت قائل ہوجاؤں گا۔ اور آپ کا یہ فرمانا کہ قرآن کریم کو کیوں محک صحت احادیث ٹھہراتے ہو۔ سو اس کا جواب میں بار بار یہی دوں گا کہ قرآن کریم مہیمن اور امام اور میزان اور قول فصل اور ہادی ہے۔ اگر اس کو محک نہ ٹھہراؤں تو اور کس کو ٹھہراؤں ؟ کیا ہمیں قرآن کریم کے اس مرتبہ پر ایمان نہیں لانا چاہئے جو مرتبہ وہ خود اپنے لئے قرار دیتا ہے؟ دیکھنا چاہئے کہ وہ صاف الفاظ میں بیان فرماتا ہے۔ ۱ کیا اس حبل سے حدیثیں مراد ہیں؟ پھر جس حالت میں وہ اس حبل سے پنجہ مارنے کیلئے تاکید شدید فرماتا ہے تو کیا اس کے یہ معنے نہیں کہ ہم ہر ایک اختلاف کے وقت قرآن کریم کی طرف رجوع کریں؟ اور پھر فرماتا ہے۔ ۲ یعنی جو شخص میرے فرمودہ سے اعراض کرے اور اس کے مخالف کی طرف مائل ہوتو اس کیلئے تنگ معیشت ہے یعنی وہ حقائق اور معارف سے بے نصیب ہے اور قیامت کو اندھا اٹھایا جائے گا۔ اب ہم اگر ایک حدیث کو صریح قرآن کریم کے مخالف پائیں اور پھر مخالفت کی حالت میں بھی اس کو مان لیں اور اس تخالف کی کچھ بھی پرواہ نہ کریں تو گویا اس بات پر راضی ہوگئے کہ معارف حقہ سے بے نصیب رہیں اور قیامت کو اندھے اٹھائے جائیں۔ پھر ایک جگہ فرماتا ہے ۳ ۴ یعنی قرآن کریم کو ہرایک امر میں دستاویز پکڑو۔ تم سب کا اسی میں شرف ہے کہ تم قرآن کو دستاویز پکڑو اور اسی کو مقدم رکھو۔اب اگر ہم مخالفت قرآن اور حدیث کے وقت میں قرآن کو دستاویز نہ پکڑیں تو گویا ہماری یہ مرضی ہوگی کہ جس شرف کا ہم کو وعدہ دیا گیا ہے اس شرف سے محروم رہیں۔ اور پھر فرماتا ہے ۵ یعنی جو شخص قرآن کریم سے اعراض کرے اور جو اس کے صریح مخالف ہے اس کی طرف مائل ہو ہم اس پر شیطان مسلط کردیتے ہیں کہ ہر وقت اس کے دل میں وساوس ڈالتا ہے اور حق سے اس کو پھیرتا ہے اور نابینائی کو اس کی نظر میں آراستہ کرتا ہے اور ایک دم اس سے جدا نہیں ہوتا۔ اب اگر ہم کسی ایسی حدیث کو قبول کرلیں جو صریح قرآن کی مخالف ہے تو گویا ہم چاہتے ہیں کہ شیطان ہمارا دن رات کا رفیق ہوجائے اور اپنے وساوس میں ہمیں گرفتار کرے اور ہم پر نابینائی طاری ہو اور ہم حق سے بے نصیب رہ جائیں۔ اور پھر فرماتا ہے۔ ۶ یعنی ذالک الکتاب کتابا متشابہ یشبہ بعضہ بعضا لیس فیہ تناقض ولا اختلاف مثنی