ظلمتِ ظلم ظالمانِ دیار بیحد و بے شمار مے بینم یعنی ملکوں میں ظلم کا اندھیرا انتہا کو پہنچ جائے گا حاکم رعیت پر اور ایک بادشاہ دوسرے بادشاہ پر اور شریک شریک پر ظلم کرے گا اور ایسے لوگ کم ہوں گے جو عدل پر قائم رہیں۔ جنگ و آشوب و فتنہ و بیداد درمیان و کنار مے بینم یعنی ہندوستان کے درمیان میں اور اسکے کناروں میں بڑے بڑے فتنے اٹھیں گے اور جنگ ہوگا اور ظلم ہوگا۔ بندہ را خواجہ وش ہمی یا بم خواجہ را بندہ وارمی بینم یعنی ایسے انقلاب ظہور میں آئیں گے کہ خواجہ بندہ اور بندہ خواجہ ہوجائے گا۔ یعنی امیر سے فقیر اور فقیر سے امیر بن جائے گا۔ سکّۂِ نوزنند بر رخ زر درہمش کم عیارمے بینم یعنی ہندوستان کی پہلی بادشاہی جاتی رہے گی اور نیا سکہ چلے گا جو کم عیار ہوگا اور یہ سب کچھ تیرھویں صدی میں سلسلہ وار ظہور میں آجائے گا۔ بعض اشجار بوستان جہان بے بہار و ثمار می بینم یعنی قحط پڑیں گے اور باغات کو پھل نہیں لگیں گے۔ غم مخور زانکہ من دریں تشویش خرمی وصل یارمے بینم