یعنی اس تشویش اور فتنہ کے زمانہ میں جو تیرھویں صدی کا زمانہ ہے غم نہیں کرنا چاہئے کیونکہ میں دیکھتا ہوں کہ وصل یار کی خوشی بھی ان فتنوں کے ساتھ اور ان کے درمیان ہے مطلب یہ کہ جب تیرھویں صدی کے یہ تمام فتنے کمال کو پہنچ جائیں گے تو وصل یار کیؔ خوشی اخیر صدی میں ظاہر ہوگی یعنی خدائے تعالیٰ رحمت کے ساتھ توجہ کرے گا۔ چوں زمستان بے چمن بگذشت شمس خوش بہار مے بینم یعنی جب کہ زمستان بے چمن مراد یہ ہے کہ جب تیرھویں صدی کا موسم خزاں گذر جائے گا تو چودھویں صدی کے سر پر آفتاب بہار نکلے گا یعنی مجدّدِ وقت ظہور کرے گا۔ دور او چوں شود تمام بکام پسرش یادگار مے بینم یعنی جب اسکا زمانہ کامیابی کے ساتھ گذر جائے گا تو اسکے نمونہ پر اسکا لڑکا یادگار رہ جائے گا یعنی مقدریوں ہے کہ خدائے تعالیٰ اسکو ایک لڑکا پارسا دے گا جو اسی کے نمونہ پر ہوگا اور اُسی کے رنگ سے رنگین ہوجائے گا اور وہ اسکے بعد اسکا یادگار ہوگا یہ درحقیقت اس عاجز کی اس پیشگوئی کے مطابق ہے جو ایک لڑکے کے بارے میں کی گئی ہے۔ بندگانِ جناب حضرتِ او سر بسر تاج دار مے بینم یعنی یہ بھی مقدر ہے بالآخر اُمرا اور ملوک اسکے معتقد خاص ہوجائیں گے اور اس کی نسبت ارادت پیدا کرنا بعضوں کیلئے دنیوی اقبال اور تاجداری کا موجب ہوگا۔ یہ اس پیشگوئی کے مطابق ہے جو اس عاجز کو خدائے تعالیٰ کی طرف سے ملی کیونکہ خدائے تعالیٰ نے اس عاجز کو مخاطب کر کے کہا کہ میں تجھ پر اس قدر فضل کروں گا کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے اور ایک جگہ فرمایا کہ تیرے دوستوں اور محبوں پر بھی احسان کیا جائے گا۔