جیساؔ کہ ہم پہلے لکھ چکے ہیں سید صاحب نے چودھویں صدی کا زمانہ نہیں پایا۔ اب چند اشعار نعمت اللہ ولی کے جو مہدی ہند کے متعلق ہیں معہ شرح ذیل میں لکھے جاتے ہیں۔
ابیات
قدرت کردگار مے بینم
حالت روزگار مے بینم
از نجوم این سخن نمے گویم
بلکہ از کردگار مے بینم
یعنی جو کچھ میں ان ابیات میں لکھوں گا وہ منجمانہ خبر نہیں بلکہ الہامی طور پر مجھ کو خدا تعالیٰ کی طرف سے معلوم ہوا ہے۔
غینورے سال چوں گذشت از سال
بُوالعجب کاروبار مے بینم
یعنی بارہ سو سال کے گذرتے ہی عجیب عجیب کام مجھ کو نظر آتے ہیں مطلب یہ کہ تیرھویں صدی کے شروع ہوتے ہی ایک انقلاب دنیا میں آئے گا اور تعجب انگیز باتیں ظہور میں آئیں گی اور ہجرت کے باراں سو سال گذرنے کے ساتھ ہی َ میں دیکھتا ہوں کہ بوالعجب کام ظاہر ہونے شروع ہوجائیں گے۔
گر در آئینۂِ ضمیرِ جہان
گرد و زنگ و غبار می بینم
یعنی تیرھویں صدی میں دنیا سے صلاح و تقویٰ اٹھ جائے گی فتنوں کی گرد اٹھے گی گناہوں کا زنگ ترقی کرے گا اور کینوں کے غبار ہر طرف پھیلیں گے یعنی عام عداوتیں پھیل جائیں گی تفرقہ اور عناد بڑھؔ جائے گا اور محبت اور ہمدردی اٹھ جائے گی۔ مگر ان باتوں کو دیکھ کر غم نہیں کرنا چاہئے۔