وہ ؔ حسب استفاضہ اور بقدر اپنی فیضیابی کے یقین کے درجہ تک پہنچ گئی ہیں لیکن باقی حدیثیں ظن کے مرتبہ سے زیادہ نہیں۔غایت کار بعض حدیثیں ظن غالب کے مرتبہ تک ہیں- اس لئے میرا مذہب بخاری اور مسلم وغیرہ کتب حدیث کی نسبت یہی ہے جو میں نے بیان کردیا ہے یعنی مراتب صحت میں یہ تمام حدیثیں یکساں نہیں ہیں۔ بعض بوجہ تعلق سلسلہ تعامل یقین کی حد تک پہنچ گئی ہیں۔ اور بعض بباعث محروم رہنے کے اس تعلق سے ظن کی حالت میں ہیں۔ لیکن اس حالت میں مَیں حدیث کو جب تک قرآن کے صریح مخالف نہ ہو موضوع قرار نہیں دے سکتا۔ اور میں سچے دل سے اس بات کی شہادت دیتا ہوں کہ حدیثوں کے پرکھنے کیلئے قرآن کریم سے بڑھ کر اور کوئی معیار ہمارے پاس نہیں۔ ہر چند محدثین نے اپنے طریق پر روات کی حالت کو صحت یا غیر صحت حدیث کیلئے معیار مقرر کیا ہے۔ لیکن کبھی انہوں نے دعویٰ نہیں کیا کہ یہ معیار کامل اور قرآن کریم سے مستغنی کرنے والاہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔ ۱؂ یعنی اگرکوئی فاسق کوئی خبر لاوے تو اس کی اچھی طرح تفتیش کرلینی چاہئے۔ اور ظاہر ہے کہ بوجہ اس کے کہ بجز نبی کے اور کوئی معصوم ٹھہر نہیں سکتا اور امکانی طور پر صدور کذب وغیرہ ذنوب کا ہر یک سے بجز نبی کے ممکن الوقوع ہے۔لہٰذا روات کے حالات صدق وکذب ودیانت وخیانت کے پرکھنے کیلئے بڑی کامل تحقیقات درکار تھی تا ان حدیثوں کو مرتبہ یقین کامل تک پہنچاتی لیکن وہ تحقیقات میسر نہیں آسکی۔ کیونکہ اگرچہ صحابہ کے حالات روشن تھے۔ اور ان لوگوں کے حالات بھی جنہوں نے ائمہ حدیث تک حدیثوں کو پہنچایا لیکن درمیانی لوگ جن کو نہ صحابہ نے دیکھا تھا اور نہ ائمہ حدیث ان کے اصلی حالات سے پورے اور یقینی طور پر واقف تھے ان کے صادق یا کاذب ہونے کے حالات یقینی اور قطعی طور پر کیوں کر معلوم ہوسکتے تھے ؟ سوہر یک منصف اور ایماندار کو یہی مذہب اور عقیدہ رکھنا پڑتا ہے کہ بجز ان حدیثوں کے جو آفتاب سلسلۂ تعامل سے منور ہوتی چلی آئی ہیں۔ باقی تمام حدیثیں کسی قدر تاریکی سے پُرہیں اور ان کی اصلی حالت بیان کرنے کے وقت ایک متقی کی یہ شان نہیں ہونی چاہئے کہ چشم دید یاقطعی الثبوت چیزوں کی طرح ان کی نسبت صحت کا دعویٰ کرے۔ بلکہ گمان صحت رکھ کر واللّٰہ اَعلم کہہ دیوے۔ اور جو شخص ان حدیثوں کی نسبت واللّٰہ اعلم بالصواب نہیں کہتا اور احاطۂ تام کا دعویٰ کرتا ہے وہ بلاشبہ جھوٹا ہے خداوند کریم ہرگز پسند نہیں کرتا کہ انسان علم تام سے پہلے علم تام کا دعویٰ کرے۔ اسی قدر دعویٰ کرنا چاہئے جس قدر علم حاصل ہو پھر زیادہ اس سے اگر کوئی سوال کرے تو واللّٰہ اعلم بالصوابکہہ دیا جائے۔ سو میں آپ کی خدمت میں کھول کر گزارش کرتا ہوں کہ میں حصہ دوم حدیثوں کی نسبت خواہ وہ حدیثیں بخاری کی ہیں یامسلم کی ہیں ہرگز نہیں کہہ سکتا کہ وہ