یا کوئی مشتبہ امر بیان کرے گا جو ٹھیک ٹھیک یاد نہیں رہا تو خدائے تعالیٰ کے سامنے اس کا جواب دینا پڑے گا۔ بلکہ سچائی کے امتحان کی غرض سے نہایت سختی سے اس پیر مرد کو کہا گیا کہ آپ اب اس بات کو خوب سوچ لیں اور سمجھ لیں کہ اگر آپ کے بیان میں ایک لفظ بھی خلاف واقعہ ہوگا تو اؔ س کا بوجھ آپ کی گردن پر ہوگا اور حشر کے دن میں وہ طوقِ *** گردن میں پڑے گا جو مفتریوں کی گردن میں پڑا کرتا ہے۔ پھر بار بار کہا گیا کہ اے میاں کریم بخش آپ پیر مرد آدمی ہیں اور جیسا کہ سنا جاتا ہے تقویٰ اور صوم و صلٰوۃ کی پابندی سے آپ کا زمانہ گذرا ہے اب اس بات کو یاد رکھو کہ اگر یہ پیشگوئی میاں گلاب شاہ کی جو اس عاجز کی نسبت آپ بیان کرتے ہیں ایک مشتبہ امر ہے یا خلاف واقعہ ہے تو اسکے بیان کرنے سے تمام اعمال خیر سابقہ تمہارے ضائع اور برباد ہوجائیں گے اور ناراض نہ ہونا یقیناً سمجھو کہ اس افترا کی سزا میں تم جہنم میں ڈالے جاؤگے۔ اگر یقینی طور پر یہ امر واقعی نہیں تو میرے لئے اپنے ایمان کو ضائع مت کرو میں نہ اس جہاں میں تمہارے کام آسکتا ہوں نہ اُس جہان میں۔ جو مجرم بن کر خدائے تعالیٰ کے سامنے جائے گا اس کیلئے وہ جہنم ہے جس میں وہ نہ مرے گا اور نہ زندہ رہے گا۔ بدبخت ہے وہ انسان جو افترا کر کے اپنے مالک کو ناراض کرے اور سخت بدنصیب ہے وہ شخص کہ ایک مجرمانہ کام کر کے ساری عمر کی نیکیاں برباد کر دیوے اور یاد رکھو کہ اگر کوئی میرے لئے کسی قسم کا خدائے تعالیٰ پر افترا کرے گا اور کوئی خواب یا کوئی الہام یا کشف میرے خوش کرنے کیلئے مشہور کردے گا تو میں اس کو کتوں سے بدتر اور سؤروں سے ناپاک تر سمجھتا ہوں اور دونوں جہانوں میں اس سے بیزار ہوں کیونکہ اس نے ایک ذلیل خلق کیلئے اپنے عزیز مولیٰ کو جھوٹ بول کر ناراض کردیا۔ اگر ہم بے باک اور کذاب ہوجائیں اور خدائے تعالیٰ کے سامنے افتراؤں سے نہ ڈریں تو ہزار ہا درجے ہم سے کتے اور سور اچھے ہیں۔ سو اگر گناہ کیا ہے۔ تو توبہ کرو تا ہلاک نہ ہوجاؤ اور یقیناً سمجھو کہ خدا ئے تعالیٰ مفتری کو بے سزا نہیں چھوڑے گا اور اس عاجز کا کاروبار کسی انسان کی شہادت پر موقوف نہیں۔ جس نے مجھے