بھیجا ہے وہ میرے ساتھ ہے اور میں اسکے ساتھ ہوں میرے لئے وہی پناہ کافی ہے یقیناً وہ اپنے بندہ کو ضائع نہیں کرے گا۔ اور اپنے فرستادہ کو برباد نہیں کردے گا۔ یہ وہ تمام باتیں ہیں جو کئی دفعہ میاں کریم بخش کو کئی مجلسوں میں کہی گئیں۔ لیکن اس نے ان سب باتوں کو سن کر ایک درد سے بھرے ہوئے دل کے ساتھ ایسا جواب دیا جس سے رونا آتا تھا اور اسکے لفظ لفظ سے معلوم ہوتا تھا کہ وہ خدا کے خوف سے بھر کر نہایت سچائی سے بیان کررہا ہے اور اسکے بیان کرنے میں جو چشم ُ پرآب ہو کر ایک رِقّت کے ساتھ تھا اؔ یک ایسی تاثیر تھی جس کے اثر سے بدن پر لرزہ آتا تھا پس اس روز یقین قطعی سے سمجھا گیا کہ یہ پیشگوئی اس شخص کے رگ و ریشہ میں اثر کر گئی ہے اور اسکے ایمان کو اس سے اعلیٰ درجہ کا فائدہ پہنچا ہے چنانچہ ہم ذیل میں اس کا وہ اشتہار جو اس نے اللہ جلّ شانہٗ کی قسم کھا کر ایک ُ پر درد بیان میں لکھایا ہے درج کریں گے اسکے پڑھنے سے ناظرین جو باانصاف اور حقیقت شناس ہیں سمجھ لیں گے کہ کیسی اعلیٰ شان کی وہ شہادت ہے۔ ماسوا اسکے ایک اور پیشگوئی ہے جو ایک مرد با خدا نعمت اللہ نام نے جو ہندوستان میں اپنی ولایت اور اہل کشف ہونے کا شہرہ رکھتا ہے اپنے ایک قصیدہ میں لکھی ہے اور یہ بزرگ سات سو انچاس برس پہلے ہمارے زمانہ سے گذر چکے ہیں اور اسی قدر مدت ان کے اس قصیدہ کی تالیف میں بھی گذر گئی ہے جس میں یہ پیشگوئی درج ہے مولوی محمد اسمعیل صاحب شہید دہلوی جس زمانہ میں اس کوشش میں تھے کہ کسی طرح ان کے مرشد سید احمد صاحب مہدیء وقت قرار دیئے جائیں اس زمانہ میں انہوں نے اس قصیدہ کو حاصل کر کے بہت کچھ سعی کی کہ یہ پیشگوئی ان کے حق میں ٹھہر جائے یہاں تک کہ انہوں نے اپنی کتاب کے ساتھ بھی اس کو شائع کردیا لیکن اس پیشگوئی میں وہ پتے اور نشان دیئے گئے تھے کہ کسی طرح سید احمد صاحب ان علامات کے مصداق نہیں ٹھہر سکتے تھے۔ ہاں یہ سچ ہے کہ اس پیشگوئی کے مصداق کا نام اَحْمَدْ لکھا ہے یعنی اس آنے والے کا نام احمد ہوگا اور نیز یہ بھی اشارہ پایا جاتا ہے کہ وہ ملک ہند میں ہوگا اور نیز یہ بھی لکھا ہے کہ وہ تیرھویں صدی میں ظہور کرے گا۔ پس بنظر